وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب سے امریکی ناظم الامور نتالی بیکر کی ملاقات، مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید فروغ دینے کے امکانات پر تفصیلی تبادلہ خیال

وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب سے امریکی ناظم الامور نتالی بیکر کی ملاقات، مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید فروغ دینے کے امکانات پر تفصیلی تبادلہ خیال

اسلام آباد۔2اپریل (اے پی پی):وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے امریکی شراکت داروں کے تعمیری کردار کو سراہتے ہوئے کہاہے کہ پاکستان سرمایہ کاری کےحوالہ سے سہولیات فراہم کرنے اور کاروباری ماحول کو بہتر بنانے کے لیے پرعزم ہے،ڈھانچہ جاتی اصلاحات، برآمدات پر مبنی نمو اور ادارہ جاتی نظام کو مضبوط بنانا ہماری ترجیح ہے۔انہوں نے یہ بات پاکستان میں تعینات امریکہ کی ناظم الامور نتالی بیکر سے ملاقات میں کہی۔ ملاقات کے دوران فریقین نے پاکستان اور امریکہ کے دوطرفہ تعلقات، جاری اقتصادی پیش رفت اور تجارت، سرمایہ کاری اور توانائی کے شعبوں میں تعاون کو مزید فروغ دینے کے امکانات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ نتالی بیکر نے واشنگٹن ڈی سی میں حال ہی میں منعقد ہونے والے سمپوزیم کا ذکر کیا جس کی میزبانی امریکی کانگریس کے پاکستان کاکس نے کی تھی۔ اس تقریب میں پالیسی سازوں، اوورسیز پاکستانی نمائندوں اور کاروباری رہنمائوں نے شرکت کی جہاں دوطرفہ تعلقات میں پیش رفت کا جائزہ لیا گیا اور مستقبل کے مواقع تلاش کیے گئے۔ انہوں نے دونوں ممالک کے درمیان روابط میں مثبت پیش رفت کو سراہا۔وزیر خزانہ نے نتالی بیکر کو توانائی کے شعبے میں درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے جاری اقدامات سے آگاہ کیا جن میں ایندھن کی خریداری، قیمتوں کے تعین کا نظام اور ہدفی سبسڈیز شامل ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ اگرچہ توانائی کی فراہمی کے انتظامات برقرار رکھے جا رہے ہیں تاہم حکومت قیمتوں کی منتقلی کے نظام کو بہتر بنانے اور اس بات کو یقینی بنانے پر کام کر رہی ہے کہ سبسڈیز زیادہ موثر انداز میں معاشی طور پر کمزور طبقات جیسے چھوٹے کسانوں اور پبلک ٹرانسپورٹ استعمال کرنے والوں تک پہنچیں۔بات چیت کے دوران توانائی کے شعبے میں پیش رفت اور مجموعی اقتصادی منظرنامے پر بھی غور کیا گیا جس میں استحکام کو یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ معاشی طور پر کمزور طبقات کے تحفظ پر خصوصی زور دیا گیا۔ وزیر خزانہ نے عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافے کے پاکستان کے درآمدی بل، مہنگائی کے رجحان اور مجموعی معاشی استحکام پر ممکنہ اثرات کو اجاگر کیا۔فریقین نے پاکستان کی بین الاقوامی مالیاتی اداروں اور ترقیاتی شراکت داروں کے ساتھ جاری روابط پر بھی تبادلہ خیال کیا جن میں آئی ایم ایف پروگرام کے تحت اصلاحات کی رفتار کو برقرار رکھنے کی کوششیں شامل ہیں۔ وزیر خزانہ نے مالیاتی نظم و ضبط برقرار رکھنے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے بدلتے ہوئے عالمی اور علاقائی حالات کے پیش نظر لچک کی ضرورت پر بھی زور دیا۔نتالی بیکر نے پاکستان کے اقتصادی اصلاحات کے ایجنڈے کی حمایت کا اعادہ کیا اور مشکل حالات میں معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے حکومت کی کوششوں کو سراہا۔

انہوں نے توانائی، معدنیات، ٹیکنالوجی اور لاجسٹکس جیسے اہم شعبوں میں سرمایہ کاری کو فروغ دینے میں امریکہ کی مسلسل دلچسپی کا بھی ذکر کیا۔ فریقین نے سرمایہ کاری کے بہائو میں اضافے کے امکانات پر بھی گفتگو کی جن میں آئندہ منعقد ہونے والے بین الاقوامی فورمز جیسے سیلیکٹ یوایس اے انویسٹمنٹ سمٹ میں شرکت شامل ہے۔ انفراسٹرکچر کی ترقی، ڈیجیٹل رابطہ کاری اور علاقائی تجارت میں تعاون کے امکانات کا بھی جائزہ لیا گیا۔وزیر خزانہ نے امریکی شراکت داروں کے تعمیری کردار کو سراہا اور اس بات پر زور دیا کہ پاکستان سرمایہ کاری کے حوالہ سےسہولیات فراہم کرنے اور کاروباری ماحول کو بہتر بنانے کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے ڈھانچہ جاتی اصلاحات، برآمدات پر مبنی ترقی اور ادارہ جاتی نظام کو مضبوط بنانے پر حکومت کی توجہ کا بھی اعادہ کیا۔