وفاقی آئینی عدالت میں وزیر آباد جائیداد تنازعہ کی سماعت، بہن ہونے سے انکار پر عدالت برہم، بیانِ حلفی طلب

وفاقی آئینی عدالت میں وزیر آباد جائیداد تنازعہ کی سماعت، بہن ہونے سے انکار پر عدالت برہم، بیانِ حلفی طلب

اسلام آباد۔6اپریل (اے پی پی):وفاقی آئینی عدالت میں وزیر آباد کی جائیداد کی تقسیم سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس امین الدین خان نے ریمارکس دیئے کہ مختلف فیصلوں میں چار بہنوں کا حصہ ایک ہی بہن کو دینے کی کیا توجیہہ ہے جبکہ ایک فریق کی جانب سے بہن ہونے سے ہی انکار پر عدالت نے وضاحت طلب کر لی۔پیر کووفاقی آئینی عدالت میں وزیر آباد کی جائیداد کی تقسیم سے متعلق اہم کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس امین الدین خان نے مختلف عدالتی فیصلوں پر سوال اٹھاتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ چار بہنوں کا حصہ ایک ہی بہن کو کیوں دے دیا گیا۔دورانِ سماعت درخواست گزار بہن کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ ایک بہن نے جائیداد کی تقسیم کو چیلنج کیا تھا جس کے نتیجے میں متعلقہ فیصلہ سامنے آیا۔ دوسری جانب فریق بہن سردار بیگم کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ان کی موکلہ نے جب وراثت میں حصہ طلب کیا تو انہیں بہن تسلیم کرنے سے ہی انکار کر دیا گیا۔

اس پر چیف جسٹس امین الدین خان نے استفسار کیا کہ کیا سردار بیگم عبداللہ کی بیٹی نہیں ہیں؟ جس پر درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اپنایا کہ سردار بیگم عبداللہ کی بیٹی نہیں ہیں۔ عدالت نے ہدایت کی کہ اگر ایسا ہے تو اس حوالے سے تحریری بیانِ حلفی عدالت میں جمع کرایا جائے۔عدالت کو بتایا گیا کہ والد کی وفات کے بعد 1989 میں جائیداد تین بہنوں اور دو بھائیوں کے درمیان تقسیم ہوئی تھی، تاہم 2018 میں فریق بہن نورین نے اس تقسیم کو عدالت میں چیلنج کیا۔ بعد ازاں کمشنر ریونیو نے زمین کی تقسیم کا فیصلہ نورین کے حق میں دیا۔مزید بتایا گیا کہ چوتھی بہن سردار بیگم نے لاہور ہائی کورٹ میں فریق بننے کی درخواست دی تھی، جس پر عدالت عالیہ نے انہیں بھی جائیداد میں حصہ دینے کا واضح حکم جاری کیا تھا۔بعد ازاں وفاقی آئینی عدالت نے کیس کی مزید سماعت 8 اپریل تک ملتوی کر دی۔