وفاقی آئینی عدالت میں انکم ٹیکس سیکشن E7کے خلاف اپیلوں کی سماعت پیر کو ہوگی

وفاقی آئینی عدالت میں انکم ٹیکس سیکشن E7کے خلاف اپیلوں کی سماعت پیر کو ہوگی

اسلام آباد۔5اپریل (اے پی پی):وفاقی آئینی عدالت پیر 6 اپریل کو انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کے سیکشن 7E کے خلاف دائر 319 اپیلوں کی سماعت کرے گی۔ یہ مقدمہ وفاقی حکومت کے ٹیکس لگانے کے اختیارات، مقرر شدہ آمدنی کی قانونی حیثیت اور مالی وفاقیت کے دائرہ کار جیسے حساس موضوعات پر روشنی ڈالے گا۔یہ اپیلیں سپریم کورٹ آف پاکستان سے وفاقی آئینی عدالت کو منتقل کی گئی ہیں جو 27ویں آئینی ترمیم کے بعد کی گئی کارروائی کے تناظر میں ہیں۔ مقدمے میں ٹیکس حکام کی نمائندگی حافظ احسان احمد کھوکھر ایڈووکیٹ کر رہے ہیں۔سیکشن 7E فنانس ایکٹ 2022 کے تحت متعارف کرایا گیا، جس کا مقصد ٹیکس نیٹ کو وسعت دینا اور معیشت کو دستاویزی بنانا ہے۔

اس قانون کے تحت مخصوص قیمتی اثاثوں، خصوصاً غیر منقولہ جائیداد کی مارکیٹ ویلیو کا ایک مقررہ فیصد بطور آمدنی تصور کیا جاتا ہے، چاہے حقیقت میں کوئی آمدنی حاصل نہ ہوئی ہو تاہم قانون میں ذاتی رہائش، کاروباری مقامات اور زرعی زمین سمیت مختلف شعبوں کو استثنیٰ دیا گیا ہے اور ٹیکس کی ادائیگی کے لیے تفصیلی قانونی طریقہ کار بھی وضع کیے گئے ہیں۔لاہور ہائی کورٹ اور سندھ ہائی کورٹ نے سیکشن 7E کی قانونی حیثیت کو برقرار رکھتے ہوئے کہا کہ پارلیمنٹ کو ٹیکس کے مقاصد کے لیے قانونی فکشن بنانے کا اختیار حاصل ہے، اور مقررہ آمدنی وفاقی فہرست کے دائرہ کار میں آتی ہے۔ عدالتوں کے مطابق ایسے اقدامات ٹیکس چوری کی روک تھام اور ٹیکس بیس بڑھانے کے لیے ضروری ہیں۔

دوسری جانب بلوچستان ہائی کورٹ نے سیکشن 7E کو کالعدم قرار دیتے ہوئے مؤقف اپنایا کہ یہ درحقیقت جائیداد کی ملکیت پر ٹیکس عائد کرتا ہے نہ کہ آمدنی پر، جس سے آئینی اختیارات پر سوال اٹھتے ہیں۔وفاقی آئینی عدالت میں اپیل کنندگان کا مؤقف ہے کہ سیکشن 7E ایک پالیسی پر مبنی اقدام ہے جو غیر پیداواری اثاثوں کی حوصلہ شکنی، ٹیکس نظام میں مساوات، اور محصولات میں اضافہ کے لیے ضروری ہے۔ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے عدالت میں کہا ہے کہ یہ قانون وفاق کے آئینی اختیارات کے دائرہ کار میں آتا ہے، بین الاقوامی ٹیکس پریکٹس کے مطابق ہےاور اس میں ناجائز استعمال سے بچاؤ کے لیے حفاظتی اقدامات اور استثنیٰ بھی شامل ہیں۔