اسلام آباد۔7اپریل (اے پی پی):ترکیہ کی آئینی عدالت کے صدر جسٹس قادِر اوزقایا نے وفاقی آئینی عدالت پاکستان کا دورہ کیا جس کے دوران دونوں ممالک نے عدالتی تعاون کے نئے مواقع اور آئینی تجربات کے تبادلے پر بات چیت کی ۔ اس ملاقات کا مقصد آئینی حکمرانی کو مضبوط کرنا اور قانون کی بالادستی کو فروغ دینا ہے۔وفد کی قیادت جسٹس قادِر اوزقایا نے کی ۔ وفد میں ترکیہ کے سینئر ججز اور عدالت کے اعلیٰ حکام شامل تھے۔ چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی، وفاقی آ ئینی عدالت کے چیف جسٹس جسٹس امین الدین خان،آئینی عدالت کے ججز، وفاقی وزیر قانون و انصاف اعظم نذیر تارڑ، وزیر مملکت برائے قانون و انصاف بیرسٹر عقیل ملک، اٹارنی جنرل آف پاکستان عثمان منصور اعوان اور دیگر اعلیٰ حکام نے وفد کا پرتپاک استقبال کیا۔
دونوں وفود نے ملاقات کے دوران عدالتی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے پر تبادلہ خیال کیا اور آئینی عدالتوں کی کارکردگی، عدالتی آزادی، اور بنیادی حقوق کے تحفظ میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا۔ اجلاس میں قانونی مہارت کے تبادلے، ججز کی تربیت، اور آئینی عدالتوں کے بہترین عملی تجربات کی شراکت پر بھی زور دیا گیا۔یہ دورہ پاکستان اور ترکیہ کے تعلقات کو روایتی شعبوں جیسے دفاع اور تجارت سے آگے بڑھاتے ہوئے عدالتی اور آئینی تعاون کے نئے شعبے میں مضبوط کرنے کے لئے اہم سمجھا جا رہا ہے۔
قانونی ماہرین کے مطابق، ایسے تبادلے پاکستان کی وفاقی آئینی عدالت کے لئے ادارہ جاتی سیکھنے اور تجربات سے استفادہ کرنے کے لئے انتہائی اہم ہیں۔دونوں ممالک نے ملاقات کے اختتام پر اعلیٰ سطحی تبادلے جاری رکھنے اور عدالتی تعاون کے لئے باقاعدہ میکانزم قائم کرنے کا عزم بھی کیا جس سے آئندہ عدالتی تعلقات مزید مستحکم ہوں گے۔