اسلام آباد۔3اپریل (اے پی پی):چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی نے عدالتی افسران کے لیے مسلسل پیشہ ورانہ تربیت، دیانت داری اور غیر جانبداری کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ مؤثر اور بروقت انصاف کی فراہمی اور عدلیہ پر عوامی اعتماد کے استحکام کے لیے یہ عناصر ناگزیر ہیں۔سپریم کورٹ کے شعبہ تعلقات عامہ کے جاری اعلامیہ کے مطابق انہوں نے یہ بات سپریم کورٹ آف پاکستان میں خیبر پختونخوا سے تعلق رکھنے والے 24 سینئر سول ججز کے وفد سے ملاقات کے دوران کہی۔ مذکورہ ججز اس وقت فیڈرل جوڈیشل اکیڈمی میں پری پروموشن ان سروس تربیت حاصل کر رہے ہیں اور پیشہ ورانہ تبادلہ پروگرام کے تحت مطالعاتی دورے پر ہیں۔ملاقات میں فیڈرل جوڈیشل اکیڈمی کے ڈائریکٹر جنرل، خیبر پختونخوا جوڈیشل اکیڈمی کے ڈائریکٹر جنرل اور لاء اینڈ جسٹس کمیشن آف پاکستان کے سیکریٹری سمیت دیگر اعلیٰ حکام بھی شریک تھے۔چیف جسٹس جسٹس یحییٰ آفریدی نے عدالتی ذمہ داریوں کی بدلتی نوعیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ تربیتی پروگرامز عدالتی صلاحیتوں میں اضافے، فیصلوں میں یکسانیت پیدا کرنے اور انصاف کے نظام پر عوامی اعتماد کو فروغ دینے میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ انصاف کی فراہمی کے لیے صرف قانونی مہارت کافی نہیں بلکہ دیانت داری، عدالتی مزاج اور آئینی ذمہ داری کا مضبوط احساس بھی ضروری ہے۔ انہوں نے عدالتی افسران کو ہدایت کی کہ وہ مقدمات کا منصفانہ، تیز رفتار اور قانون کے مطابق فیصلہ یقینی بنائیں۔چیف جسٹس نے اس امر پر بھی زور دیا کہ منظم تربیت سے افسران کو جدید قانونی چیلنجز کو سمجھنے، مقدمات کے مؤثر انتظام اور منصفانہ ٹرائل کے اصولوں کو برقرار رکھنے میں مدد ملتی ہے۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ جاری تربیتی پروگرام شرکاء کو اعلیٰ عدالتی ذمہ داریوں کے لیے بہتر طور پر تیار کرے گا۔انہوں نے عدالتی افسران کو پیشہ ورانہ معیار بلند رکھنے، فیصلوں میں خودمختاری برقرار رکھنے اور قانون کی حکمرانی کے لیے غیر متزلزل عزم اپنانے کی تلقین کرتے ہوئے کہا کہ عدلیہ کی ساکھ اس کے افسران کے کردار اور صلاحیت پر منحصر ہے۔ملاقات کے اختتام پر خیر سگالی کے طور پر یادگاری شیلڈز کا تبادلہ بھی کیا گیا۔