اسلام آباد۔30مارچ (اے پی پی):پاکستان میں ترکیہ کے سفیر عرفان نذیراوغلو نے کہا ہے کہ تعلیم کے شعبے میں تعاون پاکستان اور ترکیہ کے درمیان مشترکہ تاریخ، اعتماد اور بھائی چارے پر مبنی دیرینہ تعلقات کو مزید استحکام بخش رہا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد کے مقامی ہوٹل میں منعقدہ “ترک یونیورسٹی فیئر 2026” کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ پیر کو جاری ایک پریس ریلیز کے مطابق تعلیمی میلے کا اہتمام معارف ایجنسی نے ترک معارف فاؤنڈیشن اور ترکیہ کی وزارت تجارت کے تعاون سے کیا تھا جس میں ترکیہ کی 9 ممتاز جامعات نے شرکت کرکے پاکستانی طلبہ کو تعلیمی پروگرامز، داخلہ کے طریقہ کار اور سکالرشپس کے حوالے سے تفصیلی معلومات فراہم کیں۔
تقریب میں ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) کے چیئرمین، مختلف پاکستانی جامعات کے وائس چانسلرز، اساتذہ اور طلبہ کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ ترک سفیر نے اس موقع پر بتایا کہ ترکیہ اس وقت دنیا بھر کے 180 سے زائد ممالک کے 3 لاکھ 80 ہزار سے زائد بین الاقوامی طلبہ کی میزبانی کر رہا ہے جو ترک جامعات کے عالمی معیار کا ثبوت ہے۔ تعلیمی میلے میں نسٹ، فاسٹ، کامسیٹس، یونیورسٹی آف لاہور، لاہور کالج برائے خواتین یونیورسٹی، فاؤنڈیشن یونیورسٹی، یونیورسٹی آف ایجوکیشن لاہور اور رفاہ انٹرنیشنل یونیورسٹی سمیت ملک کی دیگر نمایاں جامعات کے نمائندگان نے بھی بھرپور شرکت کی۔
چیئرمین ہائر ایجوکیشن کمیشن نے اپنے خطاب میں ایسے اقدامات کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ سرگرمیاں دونوں برادر ممالک کے درمیان علمی تبادلے اور مشترکہ تحقیقی منصوبوں کے لئے نئے راستے کھولتی ہیں۔ میلے کے دوران پاکستانی اور ترک تعلیمی ماہرین کے درمیان طلبہ کے تبادلے کے پروگراموں (Student Exchange Programs) اور تعلیمی شراکت داری کو مزید فعال بنانے پر بھی گفتگو کی گئی۔ گزشتہ کامیاب ایڈیشنز کی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے ترک یونیورسٹی فیئر 2026 نے ایک بار پھر ثابت کیا کہ تعلیمی تعاون دونوں قوموں کو قریب لانے میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔