سینٹر فار پیس اینڈ ڈویلپمنٹ انیشی ایٹوز کے زیر اہتمام پالیسی ڈائیلاگ

سینٹر فار پیس اینڈ ڈویلپمنٹ انیشی ایٹوز کے زیر اہتمام پالیسی ڈائیلاگ

اسلام آباد۔29مارچ (اے پی پی):سینٹر فار پیس اینڈ ڈویلپمنٹ انیشی ایٹوز (سی پی ڈی آئی) کے زیر اہتمام ’’ڈیجیٹل اور سماجی شمولیتِ معذور افراد: معذوری سے متعلق قانونی نظام، مسائل اور چیلنجز‘‘ کے عنوان سے ایک پالیسی ڈائیلاگ اسلام آباد میں منعقد ہوا جس کا مقصد معذوری سے متعلق قوانین کے نفاذ کا جائزہ لینا اور معذور افراد کو حقوق، خدمات اور مواقع تک رسائی میں درپیش ساختی رکاوٹوں کی نشاندہی کرنا تھا۔ اس ڈائیلاگ میں پالیسی سازوں، قانونی ماہرین، معذور افراد کی تنظیموں کے نمائندگان، سول سوسائٹی کے اراکین اور میڈیا پروفیشنلز نے شرکت کی تاکہ قانونی وعدوں اور عملی نفاذ کے درمیان موجود خلا کا جائزہ لیا جا سکے۔ اٹارنی جنرل پاکستان منصور عثمان اعوان نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی۔ انہوں نے شرکاء کی جانب سے اٹھائے گئے مسائل کو تسلیم کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ معذور افراد کے حقوق کے فروغ کے لیے ادارہ جاتی سطح پر مستقل عزم اور موجودہ قانونی فریم ورک پر مؤثر عملدرآمد ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ معذوری سے متعلق قوانین کا مؤثر نفاذ آئینی برابری اور عدم امتیاز کی ضمانتوں کو یقینی بنانے کے لیے ناگزیر ہے۔ رکنِ قومی اسمبلی حْما چغتائی نے حکمرانی، عوامی خدمات کی فراہمی اور معلومات کی ترسیل میں قابلِ رسائی ڈیجیٹل اور سماجی پلیٹ فارمز کے کردار پر زور دیا۔ انہوں نے یہ بھی نشاندہی کی کہ قدرتی آفات کے دوران معذور افراد، خصوصاً معذور خواتین، نقل و حرکت کی مشکلات، سماجی رکاوٹوں اور شمولیتی تیاری کے محدود نظام کے باعث غیر متناسب طور پر زیادہ متاثر ہوتی ہیں۔ ایگزیکٹوڈائریکٹر سی پی ڈی آئی مختار احمد علی نے معذوری سے متعلق قانون سازی کے تحت عملدرآمد اور نگرانی کے نظام کو مضبوط بنانے کی اہمیت پر زور دیا۔

انہوں نے کہا کہ قانونی شناخت کے ساتھ ساتھ عملی اقدامات، قابلِ رسائی نظام اور ادارہ جاتی جوابدہی بھی ضروری ہے۔ انٹرنیشنل فاؤنڈیشن فار الیکٹورل سسٹمز کے کنٹری ڈائریکٹر شبیر احمد نے جامع طرزِ حکمرانی کی اہمیت اور عوامی نظام میں موجود رکاوٹوں کے خاتمے پر زور دیا تاکہ معذور افراد جمہوری اور شہری عمل میں بامعنی شرکت کر سکیں۔ پاکستان کے پہلے نابینا صحافی سید سردار احمد پیرزادہ نے کہا کہ اگرچہ ‘آئی سی ٹی رائٹس آف پرسنز ود ڈس ایبلٹیز ایکٹ 2020’ کئی سال سے نافذ ہے مگر قواعد و ضوابط کی عدم منظوری اس کے مؤثر نفاذ میں رکاوٹ بنی ہوئی ہے جس کے باعث قانونی تحفظات بڑی حد تک عملی شکل اختیار نہیں کر سکے۔

سابق وفاقی انفارمیشن کمشنر زاہد عبداللہ نے اس بات کی نشاندہی کی کہ عوامی اور سماجی شعبوں میں مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے استعمال سے روزمرہ کے تعاملات میں انسانی جذبات کی بجائے طریقہ کار کی بنیاد پر فیصلوں کو ترجیح مل سکتی ہے جو شمولیت، وقار اور انسانی مرکزیت پر مبنی رابطے کے حوالے سے خدشات کو جنم دیتا ہے۔ ڈائیلاگ کے اختتام پر اس بات پر زور دیا گیا کہ عملدرآمد کے قواعد کی تیاری، نگرانی کے نظام کو مضبوط بنانا، شہری دستاویزات تک رسائی میں بہتری، شمولیتی ڈیجیٹل نظام کی تشکیل اور معاشرتی رکاوٹوں کے خاتمے کے لیے مسلسل کوششیں ضروری ہیں تاکہ معذور افراد کی مساوی شرکت کو یقینی بنایا جا سکے۔