اسلام آباد۔6اپریل (اے پی پی):پاکستان ٹورازم ڈویلپمنٹ کارپوریشن (پی ٹی ڈی سی) کےمنیجنگ ڈائریکٹر آفتاب الرحمان رانا نے کہا ہے کہ سیاحت نہ صرف معیشت کو مضبوط کرتی ہے بلکہ مختلف ممالک کے عوام کے درمیان ہم آہنگی اور بہتر تعلقات کو بھی فروغ دیتی ہے،پاکستان ٹریول مارٹ ایک ایسا مؤثر پلیٹ فارم ہے جو سیاحت کے شعبے سے وابستہ تمام سٹیک ہولڈرز کو یکجا کرتا ہے جس میں ٹریول اینڈ ٹور آپریٹرز، ہوٹیلٹی سیکٹر، اکیڈمیا اور بین الاقوامی ادارے شامل ہیں۔ اپنے ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ پاکستان کے پاس دنیا کو پیش کرنے کے لئے بہت کچھ موجود ہے تاہم سیاحتی مصنوعات کے حوالے سے عالمی سطح پر مناسب رابطہ نہیں ہو سکا جبکہ اس پلیٹ فارم پرپاکستان کی حقیقی سیاحتی تصویر نمایاں ہوتی ہے جہاں تمام صوبے اور کمپنیاں اپنی بہترین پیشکش کر رہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں ممالک کی سیاحتی تشہیر کے لئے ایک مرکزی ادارہ موجود ہوتا ہے جبکہ پاکستان میں 2010 کی 18ویں آئینی ترمیم کے بعد سیاحت کو صوبائی معاملہ قرار دے دیا گیا جس کے باعث ایک خلا پیدا ہوا۔ ان کا کہنا تھا کہ سیاحت کو مؤثر انداز میں چلانے کے لئے وفاقی سطح پر ایک وزارت ضروری ہے کیونکہ صوبے صرف اپنے علاقوں کی تشہیر کر سکتے ہیں، پورے ملک کی نہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اس حوالے سے سامنے آنے والی سفارشات حکومت تک پہنچیں گی اور اس خلا ء کو پُر کرنے کے لئے اقدامات کئے جائیں گے۔قومی سیاحت کوآرڈینیشن پالیسی سے متعلق انہوں نے بتایا کہ حکومت تمام سٹیک ہولڈرز کو ایک قومی وژن کے تحت اکٹھا کر کے پاکستان کو عالمی سیاحتی مرکز بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔
اس پالیسی میں پائیدار ترقی پر بھی زور دیا گیا ہے تاکہ طویل المدتی فوائد حاصل کئے جا سکیں۔ انہوں نے کہا کہ سیاحت کے شعبے میں تحقیق کو بنیادی اہمیت دی گئی ہے اور پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس کو ذمہ داری سونپی گئی ہے کہ وہ تمام متعلقہ اداروں سے ڈیٹا حاصل کر کے عالمی معیار کے مطابق رپورٹ تیار کرے، جس کی توقع 2027 تک کی جا رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ معیاری فیصلوں کے لیے مستند اور تحقیق پر مبنی معلومات ضروری ہیں جبکہ سیاحت کے فروغ کے لئے ہدفی حکمت عملی اپنانا ناگزیر ہے۔ انہوں نے ان باؤنڈ ٹورزم کو درپیش چیلنجز کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جغرافیائی اور سکیورٹی صورتحال کے باعث یہ ایک مشکل کام ہے جبکہ سکیورٹی وجوہات کی بنا پر مکمل طور پر اوپن ویزا نظام کی اجازت نہیں دی جاتی جو سیاحت کے فروغ کے لئے عام طور پر ضروری ہے ۔انہوں نے کہا کہ تقریباً دو سال قبل حکومت کو اس حوالے سے اقدامات کی سفارش کی گئی تھی جس کے بعد ایک پالیسی متعارف کروائی گئی جس کے تحت 226 ممالک کے شہریوں کے لیے ویزا کا حصول آسان بنایا گیا، جو مفت اور سادہ درخواست کے عمل پر مبنی تھا۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ اس کے باوجود اب بھی چیلنجز موجود ہیں اور سکیورٹی اداروں کو ایسا مؤثر نظام وضع کرنے کی ضرورت ہے جس کے ذریعے آنے والے افراد کے ڈیٹا کی بروقت جانچ پڑتال ممکن ہو سکے تاکہ حقیقی سیاحوں کو غیر ضروری مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
انہوں نے کہا کہ سیاحت کے فروغ کے لئے ویزا سہولت اور فضائی رابطہ دو اہم عوامل ہیں جبکہ براہ راست پروازوں کی کمی ایک بڑی رکاوٹ ہے۔انہوں نے کہا کہ مختلف ایئر لائنز پاکستان میں دلچسپی رکھتی ہیں اور براہ راست پروازوں کے آغاز سے مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ ایتھوپین ایئرلائنز کراچی سے ہفتہ وار 6 سے 7پروازیں چلا رہی ہے جو افریقی ممالک سے رابطے کو بہتر بنا رہی ہیں تاہم یورپ، کینیڈا، امریکہ اور ایشیا پیسیفک سے مزید براہ راست پروازوں کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ سیاحت زرمبادلہ کمانے کا ایک آسان ذریعہ ہے اور پاکستان اس شعبے سے بآسانی 7 سے 10 ارب ڈالر تک کما سکتا ہے۔ ایم ڈی پی ٹی ڈی سی نے کہا کہ سیاحت نہ صرف معیشت کو مضبوط کرتی ہے بلکہ مختلف ممالک کے عوام کے درمیان ہم آہنگی اور بہتر تعلقات کو بھی فروغ دیتی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ سیاحت تیزی سے ترقی کر رہی ہے جس کے مثبت اور منفی دونوں اثرات ہیں، اس لیے پائیدار ترقی ناگزیر ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ غیر منظم ترقی سے قدرتی حسن اور ثقافتی ورثہ متاثر ہو سکتا ہے، اس لیے اس مرحلے پر مؤثرریگولیشن، قومی سطح پر کم از کم معیارات کا نفاذ اور تمام سطحوں پر ہم آہنگی ضروری ہے تاکہ سیاحت کو دیرپا بنیادوں پر فروغ دیا جا سکے۔