اسلام آباد۔31مارچ (اے پی پی):وزارت منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات کے زیر اہتمام سی پیک منصوبوں پر کام کرنے والے نمایاں پاکستانی اور چینی عملے کے اعزاز میں سالانہ ایوارڈز تقریب 2026 منعقد ہوئی جس میں دونوں ممالک کے پیشہ ور افراد کی غیر معمولی خدمات کو سراہا گیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات احسن اقبال نے کہا کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) نے پاکستان کی توانائی، انفراسٹرکچر اور رابطہ کاری کے شعبوں میں انقلابی کردار ادا کیا ہے اور جدید معاشی ڈھانچے کی بنیاد رکھ دی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ تقریباً 25 ارب ڈالر مالیت کے 43 منصوبے مکمل ہو چکے ہیں جبکہ قومی گرڈ میں تقریباً 9,000 میگاواٹ بجلی کا اضافہ ہوا ہے جس سے دیرینہ ساختی مسائل پر قابو پانے میں مدد ملی۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ سی پیک اب اپنے دوسرے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے جس میں توجہ انفراسٹرکچر سے ہٹ کر صنعتی ترقی، جدت اور جامع معاشی نمو پر مرکوز ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سی پیک 2.0 کو پانچ سالہ ایکشن پلان (2025–2029) کے تحت آگے بڑھایا جا رہا ہے جو ’’اڑان پاکستان‘‘ فریم ورک سے ہم آہنگ ہے۔ اس میں خصوصی اقتصادی زونز کے ذریعے صنعتی ترقی، ڈیجیٹل سلک روڈ کے تحت ٹیکنالوجی تعاون، قابل تجدید توانائی اور ماحولیاتی تحفظ، عوامی فلاحی اقدامات اور علاقائی رابطہ کاری جیسے اہم شعبے شامل ہیں۔چین کے سفیر جیانگ شیڈنگ نے دونوں ممالک کے درمیان سی پیک 2.0 کے فروغ کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ دوطرفہ تعاون اب زراعت، معدنیات اور سماجی ترقی جیسے نئے شعبوں تک پھیل رہا ہے۔
انہوں نے زرعی تجارت میں اضافے، معدنیات کی برآمدات میں بہتری اور وسائل کو معاشی قدر میں تبدیل کرنے کے لیے مکمل ویلیو چین میں تعاون کو اجاگر کیا۔انہوں نے صحت، تعلیم اور مقامی سطح پر ترقیاتی منصوبوں کی اہمیت پر بھی زور دیا جو عوامی سطح پر براہ راست اثرات ڈالنے کے ساتھ ساتھ دونوں ممالک کے درمیان عوامی روابط کو مزید مضبوط بناتے ہیں۔پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) کے وائس چانسلر ڈاکٹر ندیم جاوید نے ایوارڈ حاصل کرنے والوں کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ انسانی وسائل کسی بھی ترقی کی بنیاد ہوتے ہیں اور سی پیک کی کامیابی اس سے وابستہ افراد کی محنت اور صلاحیت کا نتیجہ ہے۔
چائنا چیمبر آف کامرس ان پاکستان کے چیئرمین وونگ ہوئی ہوا نے بھی ایوارڈ یافتگان کو مبارکباد دی اور کہا کہ پاکستان اور چین کی شراکت داری باہمی اعتماد اور مشترکہ اہداف کی بنیاد پر مزید مضبوط ہوگی۔تقریب کا ایک اہم پہلو نمایاں پاکستانی اور چینی عملے کو اعزازات سے نوازنا تھا جن کی پیشہ ورانہ مہارت اور عزم نے سی پیک منصوبوں کی کامیاب تکمیل میں کلیدی کردار ادا کیا۔
تقریب کے دوران دو اہم معاہدوں پر بھی دستخط کیے گئے جن میں سی پیک کی 14ویں جوائنٹ کوآپریشن کمیٹی (جے سی سی) کے اجلاس کے منٹس اور چین کی وزارت ماحولیات کی جانب سے پاکستان کو سولر ہوم سسٹمز، جدید موسمیاتی مشاہداتی نظام اور کلائوڈ بیسڈ ابتدائی وارننگ سسٹم کی فراہمی سے متعلق قبولیتی سرٹیفکیٹ شامل ہیں۔تقریب میں پاکستان اور چین کے درمیان سفارتی تعلقات کی 75ویں سالگرہ کے موقع پر کیک بھی کاٹا گیا جو دونوں ممالک کے دیرینہ اور مضبوط تعلقات کی علامت ہے۔آخر میں پروفیسر احسن اقبال اور چینی سفیر نے مشترکہ طور پر نمایاں کارکردگی دکھانے والے پاکستانی اور چینی عملے میں ایوارڈز تقسیم کیے۔