اسلام آباد۔6اپریل (اے پی پی):سپریم کورٹ نے بطور پلاسٹک سرجن غیرقانونی کڈنی ٹرانسپلانٹ کرنے کے سنگین کیس میں ملزم ڈاکٹر کی عدم پیشی پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے نوٹس جاری کر دیا۔سپریم کورٹ میں جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے بطور پلاسٹک سرجن غیرقانونی طور پر کڈنی ٹرانسپلانٹ کرنے والے ملزم ڈاکٹر فواد ممتاز کے خلاف پیر کو کیس کی سماعت کی۔ دورانِ سماعت ڈائریکٹر لیگل پنجاب عمران احمد اور وکیل صفائی عدالت میں پیش ہوئے۔ ڈائریکٹر لیگل پنجاب نے عدالت کو بتایا کہ ملزم ڈاکٹر کو اسلام آباد کے سیکٹر بی-17 میں غیرقانونی طور پر کڈنی ٹرانسپلانٹ کرتے ہوئے گرفتار کیا گیاجہاں کوئی باقاعدہ آپریشن تھیٹر بھی موجود نہیں تھا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ملزم اس سے قبل بھی ایسے غیرقانونی ٹرانسپلانٹس کرتے ہوئے پکڑا جا چکا ہے۔جسٹس ہاشم کاکڑ نے استفسار کیا کہ کیا ڈاکٹر عدالت میں پیش ہوا ہے؟ جس پر وکیل صفائی نے بتایا کہ ملزم ڈاکٹر فواد ممتاز پیش نہیں ہوا۔
اس پر عدالت نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ پلاسٹک سرجن کیسے کڈنی ٹرانسپلانٹ کر سکتا ہے، یہ ایک انتہائی پیچیدہ عمل ہے، ڈاکٹر کہاں ہے؟ ڈائریکٹر لیگل پنجاب نے عدالت کو بتایا کہ ملزم اس وقت ضمانت پر رہا ہے اور اس کے خلاف متعدد کیسز زیر سماعت ہیں ۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ یہ بہت سنگین نوعیت کا کیس ہے ۔ جسٹس ہاشم کاکڑ نے استفسار کیا کہ کیا متاثرہ مریض زندہ ہیں؟ جس پر ڈی ایل پنجاب نے بتایا کہ وہ مریض زندہ ہیں جن کی کڈنی ٹرانسپلانٹ کی جا رہی تھی۔ بعد ازاں عدالت نے نوٹس جاری کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت 23 اپریل تک ملتوی کر دی۔واضح رہے کہ ملزم ڈاکٹر فواد ممتاز کی سزا میں اضافے کے لیے پراسیکیوشن پنجاب نے اپیل دائر کر رکھی ہے جبکہ ہائی کورٹ نے اس کی سزا کو پہلے سے گزری ہوئی مدت تک محدود کر دیا تھا۔ ملزم کو 2023 میں سات سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔