لاہور۔2اپریل (اے پی پی):پاکستان پیپلز پارٹی جنوبی پنجاب کے صدر مخدوم سید احمد محمود نے کہا ہے کہ سندھ طاس معاہدہ پاکستان کی بقا،زرعی معیشت اور آبی سلامتی کیلئے ناگزیر ہے،یہ معاہدہ پاکستان اور بھارت کی جغرافیائی و قدرتی مجبوری ہے،جسے یکطرفہ طور پر ختم نہیں کیا جا سکتا،حتی کہ اگر دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات بھی منقطع ہو جائیں تب بھی یہ اپنی قانونی حیثیت برقرار رکھتا ہے۔ان خیالات کااظہار انہوں نے جمعرات کو یہاں” اے پی پی ”سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی قوانین مشترک دریائوں والے ممالک کے آبی حقوق کے تحفظ کی ضمانت دیتے ہیں اس لیے کسی ایک فریق کیلئے اس معاہدے سے علیحدگی اختیار کرنا ممکن نہیں۔انہوں نے زور دیا کہ اس معاہدے کی پاسداری دونوں ممالک کے مفاد میں ہے جبکہ اس سے انحراف خطے کے امن و استحکام کیلئے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔
ایک سوال کے جواب میں مخدوم سید احمد محمود نے بتایا کہ سندھ طاس معاہدہ1960 میں عالمی بینک کی ثالثی میں پاکستان اور بھارت کے درمیان طے پایا جس کے تحت دریائوں کے پانی کی تقسیم کا ایک جامع اور قابلِ عمل نظام وضع کیا گیا۔اس معاہدے کے مطابق مغربی دریائوں سندھ،جہلم اور چناب کے تقریبا80 فیصد پانی پر پاکستان کا حق تسلیم کیا گیا جبکہ بھارت کو مشرقی دریائوں راوی،بیاس اور ستلج کا کنٹرول دیا گیا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک زرعی ملک ہے جہاں معیشت کا بڑا انحصار دریائی پانی پر ہے،اس لیے یہ معاہدہ قومی معیشت اور غذائی تحفظ کیلئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔انہوں نے کہا کہ1948 میں پانی کے تنازع کے بعد اس معاہدے کی ضرورت شدت سے محسوس کی گئی،جس کے نتیجے میں19 ستمبر1960 کو یہ تاریخی معاہدہ عمل میں آیا۔بھارت کی جانب سے کشمیر میں پن بجلی منصوبوں،خصوصا کشن گنگا منصوبے پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ معاہدے کے تحت بھارت کو محدود پیمانے پر بجلی پیدا کرنے کی اجازت ہے،تاہم پانی کے بہائو میں رکاوٹ ڈالنا یا اس کا رخ تبدیل کرنا معاہدے کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ سندھ طاس معاہدہ گزشتہ کئی دہائیوں سے دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کے باوجود برقرار ہے،جو اس کی مضبوطی، افادیت اور بین الاقوامی اہمیت کا واضح ثبوت ہے۔ایک اور سوال کے جواب میں مخدوم سید احمد محمود نے کہا کہ پاکستان اپنے آبی حقوق کے تحفظ کیلئے ہر ممکن سفارتی اور قانونی اقدامات جاری رکھے گا اور کسی بھی یکطرفہ اقدام کو ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا۔انہوں نے عالمی برادری اور متعلقہ بین الاقوامی اداروں پر زور دیا کہ وہ اس معاملے کا سنجیدگی سے نوٹس لیں اور بھارت کو معاہدے پر مکمل عملدرآمد کا پابند بنائیں تاکہ خطے میں پائیدار امن کو یقینی بنایا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں سندھ طاس معاہدہ نہ صرف پانی کی منصفانہ تقسیم کا ضامن ہے بلکہ پاکستان اور بھارت کے درمیان تنازعات کو محدود رکھنے اور خطے میں دیرپا استحکام کے فروغ میں بھی کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔