صدر مملکت آصف علی زرداری کا آٹزم سے آگاہی کے عالمی دن کے موقع پر پیغام

صدر مملکت آصف علی زرداری کا آٹزم سے آگاہی کے عالمی دن کے موقع پر پیغام

اسلام آباد۔2اپریل (اے پی پی):صدر مملکت آصف علی زرداری نے آٹزم سے آگاہی کے عالمی دن کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ اس دن ہم اس سال کے موضوع “آٹزم اور انسانیت — ہر زندگی قیمتی ہے” کے تحت اکٹھے ہوتے ہیں تاکہ آٹزم کے حامل افراد کی صلاحیتوں اور خدمات کو تسلیم کریں اور ایک ایسے معاشرے کے قیام کی حمایت کریں جو ان کی ضروریات کے لئے زیادہ کھلا اور جوابدہ ہو۔بدھ کو ایوان صدر کے پریس ونگ سے جاری پیغام میں صدر مملکت نے کہا کہ آٹزم کوئی کمزوری نہیں ہے بلکہ یہ دنیا کو محسوس کرنے کا ایک مختلف انداز ہے، ہماری ذمہ داری ہے کہ آٹزم سپیکٹرم پر موجود افراد کو وہ معاونت، تعلیم اور سمجھ بوجھ فراہم کریں جس کی انہیں بااعتماد زندگی گزارنے کے لئے ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں ہر 100 میں سے ایک بچہ آٹزم سپیکٹرم پر ہوتا ہے،یہ کیفیت ابتدائی نشوونما کو متاثر کرتی ہے اور اس کی علامات عموماً زندگی کے ابتدائی برسوں میں ظاہر ہوتی ہیں جو اس بات پر اثر انداز ہوتی ہیں کہ بچہ کیسے بات کرتا ہے، سیکھتا ہے اور دوسروں کے ساتھ میل جول رکھتا ہے۔صدر مملکت نے کہا کہ پاکستان میں دستیاب اندازوں کے مطابق تقریباً 0.5 فیصد آبادی اس سے متاثر ہے، یہ ایک بڑی تعداد ہے ایسے خاندانوں کی جو تشخیص، تعلیم، تھراپی اور سماجی قبولیت تک مسلسل رسائی کے محتاج ہیں، خطرات میں کمی کا دارومدار ابتدائی تشخیص اور بروقت مداخلت پر ہے۔

صدر مملکت نے کہا کہ بچوں کے معمول کے طبی معائنے کے دوران سکریننگ اور ڈاکٹروں، اساتذہ اور کمیونٹی ورکرز کی بہتر تربیت کے ذریعے بروقت رہنمائی ممکن بنائی جا سکتی ہے، حمل کے دوران غذائی معاونت، خصوصاً فولک ایسڈ سپلیمنٹس کا استعمال، خطرات کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوا ہے، اس سے بچوں کو بروقت مدد فراہم کرنا ممکن ہوتا ہے جب اس کا سب سے زیادہ فائدہ ہو سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ بہت سے خاندانوں کے لئے اس کے اثرات روزمرہ زندگی میں محسوس ہوتے ہیں، والدین کو اکثر خصوصی علاج کے لئے طویل فاصلے طے کرنے پڑتے ہیں یا تھراپی سیشنز میں شرکت کے لئے اپنے کام کے اوقات میں تبدیلی کرنا پڑتی ہے،سکولوں میں ہمیشہ تربیت یافتہ عملہ یا مناسب سہولیات موجود نہیں ہوتیں، یہ ایسے عملی مسائل ہیں جن پر سرکاری اداروں اور مقامی انتظامیہ کی مسلسل توجہ درکار ہے۔

صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ حکومتِ پاکستان ابتدائی تشخیص، جامع تعلیم، بحالی کی خدمات اور عوامی آگاہی کے ذریعے معاون نظام کو مضبوط بنانے میں مصروف ہے، مقصد ان رکاوٹوں کو کم کرنا ہے جو آٹزم کے حامل افراد کو معاشرے میں مکمل طور پر حصہ لینے سے روکتی ہیں اور ان کے خاندانوں کے لئے دستیاب سہولیات کو بہتر بنانا ہے۔انہوں نے کہا کہ اسی سلسلے میں پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز میں ایک خصوصی آٹزم سینٹر قائم کیا گیا ہے جہاں تشخیصی خدمات، سپیچ اور لینگویج تھراپی، آکوپیشنل تھراپی، رویہ جاتی معاونت اور والدین کے لئے رہنمائی فراہم کی جاتی ہے، اس طرح کی سہولیات مربوط نگہداشت کے نظام کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔

صدر مملکت نے کہا کہ میں خاندانوں، اساتذہ، طبی ماہرین اور کمیونٹی رہنماؤں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ آگاہی اور سہولیات میں موجود خلا ء کو پُر کرنے کے لئے مل کر کام کریں، پیش رفت ہر سطح پر عملی تعاون کی متقاضی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک معاشرے کی پہچان اس بات سے ہوتی ہے کہ وہ ان افراد کے ساتھ کیسا برتاؤ کرتا ہے جو مدد کے محتاج ہوں، ہمیں یہ یقینی بنانا ہوگا کہ آٹزم کے حامل افراد باوقار زندگی گزار سکیں، روزمرہ زندگی میں بھرپور حصہ لے سکیں اور بلاوجہ رکاوٹوں کے بغیر اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لا سکیں۔