اسلام آباد۔8اپریل (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق، رانا تنویر حسین نے پاکستان ڈیری ایسوسی ایشن کے وفد کے ساتھ ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کی جس میں ڈیری سیکٹر کی موجودہ صورتحال کا جائزہ لیا گیا اور دودھ کے معیار کو بہتر بنانے، غذائی قلت کے خاتمے اور شعبے کی پائیدار ترقی کے لیے اقدامات پر غور کیا گیا۔اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان کو سنگین غذائی چیلنجز کا سامنا ہے اور تقریباً چالیس فیصد بچے نشوونما کی کمی (اسٹنٹنگ) کا شکار ہیں۔
انہوں نے نشاندہی کی کہ پاکستان دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جہاں دودھ کا استعمال زیادہ ہے اور فی کس یومیہ اوسط استعمال تقریباً ًصفر اعشاریہ تریسٹھ لیٹر ہے، تاہم مارکیٹ میں دستیاب دودھ کا بڑا حصہ معیاری نہیں، جو عوامی صحت کے لیے خطرات پیدا کر رہا ہے۔
رانا تنویر حسین نے کہا کہ ڈیری سیکٹر قومی معیشت کا ایک اہم ستون ہے جو زرعی پیداوار اور مجموعی قومی پیداوار میں نمایاں حصہ ڈالتا ہے اور دیہی علاقوں میں لاکھوں خاندانوں کے روزگار کا ذریعہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ شعبہ وسیع استعداد کا حامل ہے جسے مناسب اصلاحات اور جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کر کے مزید ترقی دی جا سکتی ہے۔وفاقی وزیر نے اس بات پر زور دیا کہ دودھ کے معیار اور حفاظت کو بہتر بنانا غذائی قلت کے خاتمے اور انسانی وسائل کی ترقی کے لیے ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ محفوظ اور غذائیت سے بھرپور دودھ تک رسائی بچوں میں نشوونما کی کمی کو کم کرنے اور مجموعی صحت کے معیار کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔
ساختی مسائل کی نشاندہی کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ دودھ کی پیداوار کا بڑا حصہ غیر رسمی نظام میں ہوتا ہے جس کی وجہ سے معیار کی نگرانی، پیداواریت اور ویلیو ایڈیشن متاثر ہوتے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ شعبے کی باضابطہ تشکیل، جدید ڈیری طریقہ کار کو فروغ دینے اور مویشیوں کے بہتر انتظام کے ذریعے پیداوار اور کسانوں کی آمدنی میں اضافہ کیا جائے۔رانا تنویر حسین نے ڈیری ویلیو چین کو مضبوط بنانے کے لیے کولڈ اسٹوریج، پراسیسنگ سہولیات اور مؤثر سپلائی نظام کی بہتری پر زور دیا۔ انہوں نے اسلام آباد سمیت شہری مراکز میں معیاری دودھ کی فراہمی کے لیے “سیف ملک سٹی” جیسے اقدامات کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا۔وفاقی وزیر نے سرمایہ کاری کے فروغ، کاروباری لاگت میں کمی اور ڈیری صنعت کی ترقی کے لیے معاون پالیسی فریم ورک کی ضرورت پر زور دیا۔
انہوں نے کہا کہ متوازن اور مؤثر ٹیکس نظام سے باضابطہ شعبے کو فروغ ملے گا، نظام میں شفافیت آئے گی اور عوام کو مناسب قیمت پر محفوظ دودھ کی فراہمی ممکن ہو سکے گی۔پاکستان ڈیری ایسوسی ایشن کے وفد نے اجلاس کو شعبے کو درپیش چیلنجز سے آگاہ کیا اور کارکردگی میں بہتری، پیداوار میں اضافے اور ریگولیٹری نظام کو مضبوط بنانے کے لیے تجاویز پیش کیں۔ وفاقی وزیر نے ایسوسی ایشن کے کردار کو سراہا اور پالیسی سازی اور شعبہ جاتی اصلاحات کے لیے باہمی تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔ رانا تنویر حسین نے کہا کہ ڈیری سیکٹر کی اصلاح اور جدید خطوط پر استوار کرنا غذائی تحفظ، بہتر غذائیت اور معاشی ترقی کے لیے ناگزیر ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت اور نجی شعبے کے درمیان مؤثر تعاون سے اس شعبے کی مکمل صلاحیت کو بروئے کار لایا جا سکتا ہے اور ایک صحت مند اور خوشحال پاکستان کی بنیاد رکھی جا سکتی ہے۔