اسلام آباد۔6اپریل (اے پی پی):قومی اسمبلی میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ پربحث کے دوران اراکین نے معیشت کے حوالہ سے فیصلے اتفاق رائے سے کرنے کی ضرورت پرزوردیا ہے، اراکین نے موجودہ بحران کو مواقع میں بدلنے کی ضرورت پرزوردیتے ہوئے کہاکہ پالیسیاں طویل المیعادبنیادوں پرہونی چاہئے۔ پیرکوقومی اسمبلی میں ایم کیوایم پاکستان کے فاروق ستارنے بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہاکہ ہدف پرمبنی سبسڈی سے ہم پٹرولیم مصنوعات کے بحران سے نبردآزمانہیں ہوسکتے،ہربحران اپنے ساتھ مواقع بھی لاتاہے، موجودہ بحران کو اب مواقع میں بدلنے کی ضرورت ہے،تمام سیاسی جماعتوں کومل کرمعیشت کے اہم فیصلے کرنا ہوں گے،درآمدی تیل پرکسٹم ڈیوٹی اورلیویز کے حوالہ سے فیصلے مل کرکرنا چاہئیں، درآمدی تیل پرکسٹم ڈیوٹی اور پٹرولیم پر لیوی عائد نہیں ہونی چاہئے، ہرقابل ٹیکس آمدنی کوٹیکس کے دائرہ کارمیں لانا ہوگا۔انہوں نے کہاکہ چھوٹے کسانوں اور ہاریوں کی بجائے 50لاکھ سے اوپرکی زرعی آمدن پرٹیکس عائد کرنا چاہئے۔
مہتاب اکبر راشدی نے کہاکہ پاکستان میں راتوں رات تیل کی قیمتیں بڑھائی گئی جس سے مڈل اورکم آمدنی رکھنے والے طبقات کی مشکلات بڑھ گئی ہے،پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے حوالہ سے بے یقینی کاخاتمہ ہونا چاہئے، حکومت نے کفایت شعاری کیلئے جو اقدامات کئے ہیں اس سے ہونے والی بچت کی تفصیلات ایوان کے سامنے پیش کرنا چاہئے،حکومت نے ریلیف کیلئے جو اقدامات کئے ہیں اس سے لوگ خوش نہیں ہے،پالیسیاں طویل المیعادہونی چاہئے۔پارلیمانی سیکرٹری گل اصغرخان نے کہاکہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ناگزیرتھا،موجودہ بحران اورجنگ پاکستان نے شروع نہیں کی تھی،پاکستان نے موجودہ بحران کے دوران بہترین اقدامات کئے اورپڑوسی ممالک کے برعکس ملک میں پٹرولیم مصنوعات کی صورتحال تسلی بخش ہے، پاکستان سفارتی محاذوں پر بھی اپنا موثر کردار اداکر رہاہے، موجودہ بحران سے پاکستان، چین اوردیگرممالک متاثرہورہے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ حکومت نے موجودہ بحران کے دوران جتنے بھی اقدامات کئے ہیں وہ قابل تعریف ہے،وزیراعظم، ڈپٹی وزیراعظم اورفیلڈمارشل عاصم منیرنے بہترین کام کیا ہے۔ بیرسٹر گوہر خان نے کہاکہ حکومت عوام کوجوابدہ ہے، آئین ہمیں عوام کی فلاح وبہبودکی ذمہ داریاں دیتاہے،جنگوں سے تمام ممالک اورعوام متاثرہوتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ دیگرممالک کے برعکس پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں زیادہ اضافہ کیاگیاہے۔انہوں نے کہاکہ پٹرولیم ڈولپمنٹ لیوی کیلئے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے ساتھ بات چیت کرنی چاہئے تھی اورلیوی میں زیادہ کمی کی ضرورت تھی،سبسڈی کاطریقہ کارشفاف ہونا چاہئے کیونکہ یہ عوام کاپیسہ ہوتا ہے۔