قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے منصوبہ بندی، ترقی اور خصوصی اقدامات کا اجلاس، 465 ارب روپے کے لاہور–بہاولنگر موٹروے منصوبے میں تاخیر پر تفصیلی رپورٹ طلب

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے منصوبہ بندی، ترقی اور خصوصی اقدامات کا اجلاس، 465 ارب روپے کے لاہور–بہاولنگر موٹروے منصوبے میں تاخیر پر تفصیلی رپورٹ طلب

اسلام آباد۔7اپریل (اے پی پی):قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے منصوبہ بندی، ترقی اور خصوصی اقدامات کا 14واں اجلاس پارلیمنٹ ہائوس اسلام آباد میں سید عبدالقادر گیلانی، ایم این اے کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ کمیٹی نے سید نوید قمرکی جانب سے پیش کردہ توجہ دلائو نوٹس پر 465 ارب روپے کے لاہور–بہاولنگر موٹروے منصوبے میں تاخیر پر تفصیلی رپورٹ طلب کرلی۔ متعلقہ وزارت نے کمیٹی کو منصوبے کی موجودہ صورتحال، تکمیل کے اوقات اور مالیاتی انتظامات پر بریفنگ دی۔ اراکین نے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ (PPP) ماڈل کی عملداری اور موجودہ معاشی حالات، جن میں مالی دباؤ اور مہنگائی شامل ہیں، کے پیش نظر منصوبے کے اہداف کے حصول پر تحفظات کا اظہار کیا۔ کمیٹی نے این-5 نیشنل ہائی وے کی صورتحال کا بھی جائزہ لیا، جو تاحال مکمل نہیں ہو سکا۔ وزارت نے آگاہ کیا کہ تاخیر کی بنیادی وجہ جاری قانونی کارروائیاں ہیں۔ کمیٹی نے وزارت کو اس معاملے پر جامع رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی۔

مزید برآں، ڈیرہ اسماعیل خان میں خصوصی ترقیاتی منصوبوں کی ضرورت پر زور دیا گیا اور کہا گیا کہ بڑے پیمانے کے انفراسٹرکچر منصوبے صرف صوبائی حکومتوں کے لیے مؤثر طور پر ممکن نہیں۔ کمیٹی نے متعلقہ نمائندگان کی جانب سے پیش کردہ تجاویز پر غور کرنے پر اتفاق کیا۔ کمیٹی نے مختلف علاقوں میں ترقیاتی منصوبوں کے نفاذ میں درپیش چیلنجز پر بھی غور کیا اور انتظامی و مالیاتی معیار میں عدم یکسانیت کو اجاگر کیا۔ بریفنگ پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ لاہور–بہاولنگر موٹروے منصوبے اور پاکستان انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ کمپنی لمیٹڈ (PIDCL) کے تحت جاری منصوبوں میں تاخیر کا جائزہ لینے کے لیے ذیلی کمیٹیاں تشکیل دی جائیں گی۔ مزید یہ کہ بلوچستان میں IFRAP سے متعلقہ انفراسٹرکچر منصوبوں کا تصدیقی دورہ بھی کیا جائے گا اور اس کی رپورٹ پیش کی جائے گی۔ شازیہ صبیحہ اسلم سومرو، ایم این اے کے اٹھائے گئے سوال پر تعلیم اور صحت کے شعبوں میں پیش رفت اور بین الاقوامی جائزوں، خصوصاً یونیسف کی رپورٹس میں ظاہر ہونے والے نتائج کے درمیان فرق پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔

انہوں نے جاری اقدامات کی مؤثریت اور مختص فنڈز کے استعمال پر سوالات اٹھائے۔ پنجاب میں بھاری فنڈز کے باوجود ترقیاتی اخراجات کی مؤثریت پر بھی سوال اٹھائے گئے۔ یہ وضاحت کی گئی کہ آئینی ترمیم کے بعد تعلیم اور صحت صوبائی معاملات ہیں۔ وزارت نے مزید بتایا کہ مہنگائی اور مالی دبائو کے باعث ترقیاتی فنڈز کی حقیقی مالیت میں کمی واقع ہوئی ہے جبکہ صوبائی پی ایس ڈی پی میں اضافہ ہوا ہے۔ اراکین کو ہدایت کی گئی کہ وہ فنڈز کے استعمال اور نتائج سے متعلق سوالات متعلقہ صوبائی حکام کے سامنے اٹھائیں۔ کمیٹی نے پائیدار ترقیاتی اہداف (ایس ڈی جیز) کے فورمز کو قومی و صوبائی اسمبلیوں میں موثر نگرانی اور ہم آہنگی کے لیے استعمال کرنے کی تجویز پر بھی غور کیا۔

کمیٹی نے آئندہ مالی سال کے لیے وزارتِ منصوبہ بندی، ترقی اور خصوصی اقدامات کے پی ایس ڈی پی بجٹ تجاویز پر کوئی اعتراض نہیں کیا تاہم باقی ایجنڈا آئٹمز، جن میں “پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ اتھارٹی (ترمیمی) بل، 2025” اور “جنرل اسٹیٹسٹکس (ری آرگنائزیشن) (ترمیمی) بل، 2025” شامل ہیں، کو آئندہ اجلاس تک مؤخر کر دیا گیا۔ اجلاس میں سید سمیع الحسن گیلانی، ناز بلوچ، اختر بی بی اور میجر (ر) طاہر اقبال ایم این ایز نے شرکت کی۔ ویڈیو لنک کے ذریعے اضبال زہری اور ذوالفقار بچانی ایم این ایز نے شرکت کی۔ توجہ دلائو نوٹس پیش کرنے والے سید نوید قمر اور شازیہ صبیحہ اسلم سومرو بھی اجلاس میں موجود تھے۔ خصوصی مدعوین میں سید علی حیدر گیلانی، ایم پی اے ملک محمد ارشد، ایم پی اے اور فتح اللہ خان، ایم این اے شامل تھے جبکہ متعلقہ وزارتوں اور محکموں کے نمائندگان بھی شریک ہوئے۔