اسلام آباد۔11اپریل (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال کی زیر صدارت نیشنل پرائس مانیٹرنگ کمیٹی کے آن لائن اجلاس میں ملک بھر میں اشیائے ضروریہ کی قیمتوں، ٹرانسپورٹ کرایوں اور سپلائی چین کی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ وزارت منصوبہ بندی کے مطابق اجلاس کو بریفنگ کے دوران ادارہ شماریات نے آگاہ کیا کہ حکومتی سبسڈی کے باعث ٹرانسپورٹ اخراجات میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی ہے جبکہ متعدد شہروں میں کرایوں میں 20 سے 30 فیصد تک کمی ریکارڈ کی گئی تاہم کراچی میں ٹرانسپورٹ کرایوں میں اضافے کا نوٹس لیتے ہوئے وفاقی وزیر نے سندھ حکومت کو فوری کارروائی کی ہدایت کی۔اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ ہفتے کے دوران 8 اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں کمی جبکہ 28 اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
لہسن، کیلے، چکن اور آٹے کی قیمتوں میں بالترتیب 3.78 فیصد، 3.39 فیصد، 1.05 فیصد اور 0.73 فیصد کمی ہوئی، جبکہ ڈیزل، پیٹرول، ٹماٹر، ایل پی جی اور آلو کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا۔ادارہ شماریات کے مطابق حساس قیمت اشاریہ (SPI) میں مجموعی طور پر استحکام رہا اور حالیہ ہفتے میں یہ شرح 1.93 فیصد ریکارڈ کی گئی۔ گھی اور خوردنی تیل کی قیمتیں بھی مستحکم رہیں، جبکہ عالمی سطح پر فرٹیلائزر کی قیمتوں میں اضافے کے باوجود ملک میں قیمتیں قابو میں رہیں۔اجلاس میں بعض شہروں، بالخصوص کراچی میں تھوک اور پرچون قیمتوں میں نمایاں فرق پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا، جہاں ٹماٹر اور آلو کی قیمتوں میں بالترتیب 142 فیصد اور 117 فیصد تک فرق دیکھا گیا۔ وفاقی وزیر نے صوبائی حکومتوں کو ہدایت کی کہ وہ تھوک اور پرچون قیمتوں میں توازن یقینی بنائیں۔
وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے متعلقہ حکام کو منافع خوری اور ذخیرہ اندوزی کے خلاف سخت کارروائی کرنے، فرٹیلائزر کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنانے اور آئندہ فصلوں کی بوائی کے پیش نظر کھاد کی دستیابی ہر صورت برقرار رکھنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے قیمتوں کے اتار چڑھاؤ پر کڑی نگرانی رکھنے اور مانیٹرنگ نظام کو مزید مؤثر بنانے پر بھی زور دیا۔اجلاس کے اختتام پر وفاقی وزیر نے کہا کہ وزیر اعظم کی خصوصی ہدایات ہیں کہ عوام کو ہر ممکن ریلیف فراہم کیا جائے اور اشیائے خوردونوش کی قیمتوں کو غیر معمولی حد تک بڑھنے سے روکا جائے۔
انہوں نے اس امر پر اطمینان کا اظہار کیا کہ ٹرانسپورٹرز ذمہ داری کا مظاہرہ کر رہے ہیں اور حکومتی سبسڈی کے ثمرات عوام تک پہنچ رہے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ حالات ابھی مکمل طور پر معمول پر نہیں آئے، لہٰذا قیمتوں کے استحکام کے لیے مربوط اور سنجیدہ اقدامات کا تسلسل ناگزیر ہے۔