پنجاب پبلک ٹرانسپورٹ روٹ پرمٹ سسٹم انشورنس ریپوزٹری کے ساتھ انٹیگریٹ کر دیا گیا ، ایس ای سی پی

پنجاب پبلک ٹرانسپورٹ روٹ پرمٹ سسٹم انشورنس ریپوزٹری کے ساتھ انٹیگریٹ کر دیا گیا ، ایس ای سی پی

اسلام آباد۔1اپریل (اے پی پی):سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی)نے حکومت پنجاب، سینٹرل ڈپازٹری کمپنی (سی ڈی سی) اور انشورنس ایسوسی ایشن آف پاکستان کے تعاون سے پنجاب میں پبلک ٹرانسپورٹ روٹ پرمٹ سسٹم کو سی ڈی سی کی انشورنس ریپوزٹری کے ساتھ کامیابی سے منسلک کر دیا ہے تاکہ موٹر تھرڈ پارٹی انشورنس کے موثر نفاذ کو یقینی بنایا جا سکے۔اس سلسلے میں اسلام آباد میں ایک تقریب منعقد ہوئی جس میں چیئرمین ایس ای سی پی ڈاکٹر کبیر احمد سدھو، سیکرٹری پنجاب ٹرانسپورٹ اتھارٹی حسن احسن اور سی ای او سی ڈی سی بدیع الدین نے شرکت کی۔ تقریب میں ایس ای سی پی کے کمشنرز مظفر احمد مرزا، ذیشان رحمان خٹک، امتیاز حیدر، محمد علی فرید خواجہ، ایگزیکٹو ڈائریکٹر محمد آصف جلال بھٹی اور ڈائریکٹرز وسیم خان، ناصر عسکر اور محمد ارشد سمیت انشورنس کمپنیوں کے نمائندگان اور دیگر متعلقہ سٹیک ہولڈرز نے بھی شرکت کی ۔

یہ اقدام سڑک استعمال کرنے والوں کے لیے انتہائی فائدہ مند ثابت ہوگا کیونکہ اس سے مسافروں، ڈرائیورز اور تیسرے فریق کو حادثات کی صورت میں مالی تحفظ اور بروقت معاوضہ مل سکے گا۔اس نئے نظام کے تحت حکومت پنجاب نے تمام پبلک ٹرانسپورٹ گاڑیوں کے لیے تھرڈ پارٹی موٹر انشورنس لازمی قرار دے دی ہے۔ اب روٹ پرمٹ کے اجراء اور تجدید کو انشورنس سے مشروط کر دیا گیا ہے تاکہ قانونی تقاضوں پر مکمل عملدرآمد یقینی بنایا جا سکے۔پنجاب نے اپنے وہیکل روٹ پرمٹ نظام کو مکمل طور پر ڈیجیٹلائز بھی کر دیا ہے جسے سی ڈی سی کی انشورنس ریپوزٹری کے ساتھ مربوط کیا گیا ہے۔ اس کے ذریعے انشورنس پالیسیوں کی فوری تصدیق ممکن ہوگی، جس سے شفافیت، موثر نفاذ اور کاروبار میں آسانی پیدا ہوگی۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین ایس ای سی پی ڈاکٹر کبیر سدھو نے کہا کہ یہ اقدام ڈیجیٹل نفاذ کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے اور انشورنس کو مالی تحفظ کے ایک موثر ذریعے کے طور پر فروغ دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حادثات کے متاثرین کو بروقت معاوضہ فراہم کرنا اور سڑکوں کو محفوظ بنانا ہماری ترجیح ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس وقت انشورنس ریپوزٹری میں تقریباً 10 لاکھ گاڑیوں کا ڈیٹا موجود ہے جبکہ ملک میں تقریباً 3 کروڑ گاڑیاں ہیں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ انشورنس کوریج اب بھی محدود ہے اور اسے بڑھانے کی ضرورت ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ایس ای سی پی نو فالٹ سسٹم متعارف کرانے اور موٹر وہیکل ایکٹ 1939 میں ترامیم کے ذریعے نفاذ کو مضبوط بنانے پر کام کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ادارہ انشورنس کی رسائی کو موجودہ تقریباً 0.83 فیصد سے بڑھا کر 1.5 فیصد تک لے جانے کے لیے پرعزم ہے۔