اسلام آباد۔3اپریل (اے پی پی):پاور ڈویژن نے حکومتی سرپلس پاور پیکج کی 3 ماہ کی تفصیلات جاری کردیں، صنعتی اور زرعی شعبے نے دسمبر 2025 تا فروری 2026 میں 23 فیصد اضافی 2,164 گیگاواٹ بجلی استعمال کی، جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ اس پیکیج نے توانائی کی طلب خاطرخواہ اضافہ کیا ہے۔جمعہ کو جاری رپورٹ کے مطابق سرپلس پیکج سے صرف صنعتی صارفین نے مجموعی طور پر 19.6 ارب روپےکا فائدہ اٹھایا ہے جبکہ زرعی صارفین کو 1.14 ارب روپے کا فائدہ پہنچا۔ اس طرح سرپلس پیکیج سے کل فائدہ 20.83 ارب روپے بنتا ہے۔صنعتی صارفین میں بی تھری (B3) کیٹیگری صارفین نے 8.76 ارب روپے، بی ٹو (B2) 5.34 ارب، بی فور (B4) 4.02 ارب، اور بی ون (B1) 1.48 ارب روپے فائدہ لیا۔
پیکیج سے استفادہ کرنے والے صارفین کی تعداد بھی قابلِ ذکر ہے۔ بی فور (بڑی صنعتوں) میں سے 67 فیصد (123 میں سے 83)، بی تھری میں سے 52 فیصد (3,470 میں سے 1,812)، بی ٹو میں سے 48 فیصد (69,124 میں سے 33,449)، اور بی ون میں سے 43 فیصد (2,29,282 میں سے 98,718) صنعتی صارفین نےاس پیکیج سے فائدہ اٹھایا۔ زرعی صارفین میں سے 34 فیصد (2,42,451 میں سے 82,334) نے اس پیکیج سے استفادہ کیا۔ پیکیج کے تحت توانائی استعمال کی بات کی جائے تو بی ون صنعتی صارفین 27 فیصد کے ساتھ سرفہرست رہے، اس کے بعد بی فور (25 فیصد)، بی ٹو (24 فیصد)، بی تھری (22 فیصد) اور زراعت (21 فیصد) شامل ہیں۔ اس پیکج کی کامیابی جنوری 2026 میں 12 فیصد اور فروری 2026 میں 11 فیصد کی سالانہ بنیاد پر نمو سے صاف ظاہر ہورہی ہے ۔
یہ واضح کرتا ہے کہ اس پیکیج نے بجلی کی طلب میں اضافہ کیا ہے اور صنعتوں کو مہنگی بجلی بنانے کی بجائے زیادہ سستی نیشنل پر انحصار بڑھانے کی ترغیب دی ہے۔ بڑھتی ہوئی یہ طلب ملک کی معاشی بحالی اور توانائی کے شعبے کے استحکام کے لیے ایک مضبوط اور مثبت اشارہ ہے۔ پاور ڈویژن نے یہ سرپلس پاور پیکیج دسمبر 2025 میں شروع کیا تھا، جس کا مقصد بجلی کی کھپت کو فروغ دینا، دستیاب پیداواری صلاحیت کو بہتر طور پر استعمال کرنا، اور صنعتی اور زرعی صارفین کو طویل مدت کے لیے مالی ریلیف فراہم کرنا تھا۔