لاہور۔11اپریل (اے پی پی):وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان نے کہا ہے کہ پاکستان صنعتی و معاشی اصلاحات کے ذریعے نئی سمت کا تعین کر رہا ہے،پاکستان نے عالمی چیلنجز کا دانشمندی و عزم کے ساتھ مقابلہ کیا اور ایک مضبوط، ذمہ داراسٹریٹجک اہمیت کے حامل ملک کے طور پر ابھر کر سامنے آیا ہے۔ ان خیالات کااظہار انہوں نے ہفتہ کو ایکسپو سنٹر میں سازگار کی جانب سے ٹی-500 ٹینک کو پلگ اِن ہائبرڈ الیکٹرک وہیکل (پی ایچ ای وی) ماڈل میں متعارف کرانے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
تقریب میں سی ای او سازگار انجینئرنگ ورکس لمیٹڈ میاں اسد حمید ، چینی قونصل جنرل سمیت آٹو موبیلز سے تعلق رکھنے والے تاجروں و صنعتکاروں کی کثیر تعداد موجود تھی۔ ہارون اختر خان نے کہا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی عالمی تباہی کا سبب بن اور دنیا بھر میں امن و معاشی استحکام کو متاثر کر سکتی تھی۔ انہوں نے زور دیا کہ پاکستان نے اس نازک صورتحال میں توازن، تحمل اور مکالمے کی پالیسی اپناتے ہوئے ایک مثبت و تعمیری کردار ادا کیا۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں پاکستان نے موثر سفارتکاری کا مظاہرہ کیا، جس سے کشیدگی میں کمی لانے اور عالمی امن کے فروغ میں مدد ملی۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان نے عالمی چیلنجز کا دانشمندی اور عزم کے ساتھ مقابلہ کیا اور ایک مضبوط، ذمہ دار اسٹریٹجک اہمیت کے حامل ملک کے طور پر ابھر کر سامنے آیا ہے۔سفارتکاری کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے ہارون اختر خان نے کہا کہ تاریخ کے اہم فیصلے جنگ کے میدانوں میں نہیں بلکہ مذاکرات کی میز پر طے ہوتے ہیں۔ انہوں نے اسلام آباد اکارڈ کو امن، باہمی احترام اور اعتماد کی علامت قرار دیا، جو پاکستان کے تعمیری عالمی کردار کی عکاسی کرتا ہے۔معاون خصوصی نے توانائی بحران کے خطرے سے موثر انداز میں نمٹنے پر وزیراعظم کی قیادت کو سراہتے ہوئے کہا کہ بڑھتی ہوئی عالمی تیل کی قیمتوں کے باوجود حکومت نے عوام کو ریلیف دینے اور معاشی استحکام برقرار رکھنے کے لیے انتھک محنت سے جامع حکمت عملی مرتب کی۔
انہوں نے کہا کہ یہی حقیقی قیادت ہے جو صرف الفاظ نہیں بلکہ عملی اقدامات سے ظاہر ہوتی ہے، پاکستان کی سفارتی و معاشی کاوشوں سے عالمی سطح پر ملک کی ساکھ اور تشخص مزید مضبوط ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حقیقی قیادت صرف طاقت میں نہیں بلکہ تنازعات کو روکنے اور استحکام برقرار رکھنے کی دانشمندی میں ہوتی ہے۔ملکی سطح پر پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے ہارون اختر خان نے کہا کہ پاکستان بیک وقت معاشی بحالی اور صنعتی ترقی کا نیا باب رقم کر رہا ہے،ملک قلیل مدتی اقدامات سے نکل کر طویل مدتی ساختی اصلاحات کی جانب بڑھ رہا ہے، جس کا واضح مقصد پاکستان کو ایک مسابقتی صنعتی معیشت بنانا ہے۔
انہوں نے کہا کہ نیشنل انڈسٹریل پالیسی صنعتی بحالی کے لیے ایک جامع روڈ میپ فراہم کرتی ہے، جس کا مقصد چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں (ایس ایم ایز) کو بااختیار بنانا، کاروبار میں آسانیاں پیدا کرنا اور سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول فراہم کرنا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت سہولت کار کا کردار ادا کر رہی ہے جبکہ نجی شعبہ ترقی کا انجن ہوگا۔انہوں نے ریگولیٹری گیلوٹین کے تحت جاری اصلاحات کا بھی ذکر کیا، جن کا مقصد غیر ضروری قوانین کا خاتمہ، ریڈ ٹیپ میں کمی اور کاروبار میں آسانی پیدا کرنا ہے۔ انہوں نے ٹریکٹر پالیسی کو زرعی شعبے کے استحکام اور موبائل و الیکٹرانکس پالیسی کو ٹیکنالوجی مینوفیکچرنگ اور برآمدات کے فروغ کے لیے اہم قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ آئندہ آنے والی پالیسیز، جن میں نئی بیٹری اسٹوریج اور جدید ڈیوائسز شامل ہیں، پاکستان کو مستقبل کی صنعتوں میں مضبوط مقام دیں گی اور نوجوانوں کو ٹیکنالوجی کے صارف کے بجائے اس کے پیدا کنندہ بنانے میں مدد فراہم کریں گی۔پائیداری پر زور دیتے ہوئے ہارون اختر خان نے کہا کہ پاکستان میں صاف اور پائیدار توانائی کی جانب منتقلی ناگزیر ہو چکی اور یہ طویل مدتی ترقی کے لیے انتہائی ضروری ہے۔
انہوں نے آٹوموٹیو شعبے میں ایک اہم پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ سازگار کی جانب سے ٹی-500 ٹینک کو پلگ اِن ہائبرڈ الیکٹرک وہیکل (پی ایچ ای وی) ماڈل میں متعارف کرانا پاکستان میں الیکٹرک وہیکل ٹیکنالوجی کے فروغ کی جانب ایک اہم قدم ہے، جو ملک کے جدید صنعتی مستقبل، جدت اور ماحولیاتی پائیداری کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔ تقریب سے سی ای او سازگار انجینئرنگ ورکس لمیٹڈ میاں اسد حمید نے بھی خطاب کیا۔