پاکستان میں زرعی ترقی کا نیا باب، گرین پاکستان انیشیٹو کے تحت بنجر زمینیں آباد ہونے لگیں

پاکستان میں زرعی ترقی کا نیا باب، گرین پاکستان انیشیٹو کے تحت بنجر زمینیں آباد ہونے لگیں

اسلام آباد۔1اپریل (اے پی پی):پاکستان میں زرعی شعبے کی ترقی کے لیے شروع کیے گئے گرین پاکستان انیشیٹو کے تحت بنجر زمینوں کو قابلِ کاشت بنانے کی کوششیں تیزی سے کامیابی کی جانب گامزن ہیں۔ اس قومی منصوبے کے ذریعے نہ صرف زرعی پیداوار میں اضافہ متوقع ہے بلکہ دیہی معیشت کو بھی نئی زندگی مل رہی ہے۔ایس آ ئی ایف سی حکام کے مطابق چولستان کے وسیع و عریض صحرا میں جدید زرعی ٹیکنالوجی اور مؤثر حکمتِ عملی کے ذریعے بنجر زمین کو زرخیز بنانے میں پینٹیرا فارمز ایک نمایاں مثال کے طور پر سامنے آئے ہیں۔پراجیکٹ منیجر ڈاکٹر عطا اللہ کے مطابق پینٹیرا فارمز کے اقدامات سے مقامی افراد کو روزگار کے مواقع فراہم ہوئے ہیں جس سے نہ صرف علاقے کی معیشت مضبوط ہوئی بلکہ لوگوں کا معیارِ زندگی بھی بہتر ہوا ہے۔

مقامی کسانوں کا کہنا ہے کہ پینٹیرا کمپنی کی آمد سے اس بنجر علاقے میں ہریالی آئی ہے، بنیادی سہولیات میں بہتری آئی ہے اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوئے ہیں۔ ان کے مطابق اب دور افتادہ اور دشوار گزار علاقوں تک رسائی بھی ممکن بنائی جا چکی ہے۔پینٹیرا فارمز کے سی ای او فرقان علی کا کہنا ہے کہ فارم میں جدید اور اسمارٹ زرعی نظام متعارف کرایا گیا ہے، جس میں سینٹرل پیوٹ سسٹم، ڈرپ اریگیشن اور ڈرون کے ذریعے فصلوں پر ادویات کا اسپرے شامل ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ چولستان میں پانی کے مؤثر استعمال کو یقینی بنانے کے لیے 7 سے 8 کلومیٹر طویل اندرونی نہری نظام بھی قائم کیا گیا ہے۔ماہرین کے مطابق بنجر زمینوں کی بحالی، جدید زرعی ٹیکنالوجی کے فروغ اور ملکی زرعی خودکفالت کے حصول میں گرین پاکستان انیشیٹو کا کردار کلیدی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔ یہ منصوبہ نہ صرف زراعت بلکہ ملکی معیشت کے استحکام کی جانب ایک اہم قدم ثابت ہو رہا ہے۔