اقوام متحدہ ۔3اپریل (اے پی پی):پاکستان نے بحران زدہ مشرق وسطیٰ میں اقوام متحدہ اور عرب لیگ کے مضبوط تعاون پر زور دیتے ہوئے اس بات کو اجاگرکیا کہ عرب لیگ کی ترجیح غیر ملکی قبضے سے پیدا ہونے والے دیرینہ تنازعات کا حل ہے۔
اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل نمائندےعاصم افتخار احمد نےسلامتی کونسل کے اجلاس میں کہا کہ ہمیں امید ہے کہ جاری بین الاقوامی کوششیں ایک مقررہ اور ناقابل واپسی سیاسی عمل کا باعث بنیں گی اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق 1967 سے پہلے کی سرحدوں کی بنیاد پر ایک خودمختار اور آزاد ریاستِ فلسطین کا قیام، جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو، مسئلہ فلسطین کا بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حل ہے۔۔
انہوں نے کہاکہ عرب لیگ اور سلامتی کونسل سمیت پاکستان کے لیے ایک اہم ترجیح دیرینہ تنازعات کا حل ہے، خاص طور پر جو غیر ملکی قبضے اور حق خود ارادیت سے انکار سے پیدا ہوتے ہیں۔ پاکستانی سفیر نے کہا کہ فلسطینی عوام مسلسل قبضے اور بے دخلی کا شکار ہیں۔
انہوں نے اسرائیل سے مطالبہ کیا کہ وہ فلسطین، شام اور لبنان سمیت تمام عرب علاقوں پر اپنا غیر قانونی قبضہ خالی کر دے۔
انہوں نے مزید کہا کہ عرب اور اسلامی تعاون کی تنظیم کی نمائندگی بہت اہم ہے۔ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی جنگ میں تیزی آنے پر پاکستانی سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا کہ فوری ہدف تمام تنازعات کا مکمل خاتمہ ہے اور تمام مسائل کے پرامن حل کے لیے مذاکرات کی طرف واپس آنا چاہیے۔
انہوں نے کہاکہ عرب لیگ کے خلیجی اراکین کو اپنی سرزمین پر براہ راست حملوں کا سامنا ہے، جو بالکل ناقابل قبول ہے جبکہ آبنائے ہرمز میں محدود نیویگیشن کی وجہ سے درپیش چیلنجوں سے نمٹ رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد جو گزشتہ جولائی میں منظور کی گئی تھی، تنازعات کے پرامن حل کے لیے کونسل کے عزم کی عکاسی کرتی ہے۔ “اس کا نفاذ امن اور استحکام کی جانب اجتماعی کوششوں کو آگے بڑھانے کے لیے اہم ہے۔
پاکستانی مندوب نے مزید کہا کہ عرب لیگ نے عرب دنیا میں طویل عرصے سے امن کو آگے بڑھایا ہے۔انہوں نے کہاکہ ا قوام متحدہ اورعرب لیگ کے درمیان شراکت داری کو مضبوط کرنا محض مطلوبہ نہیں ہے، یہ ناگزیر ہے۔