پاکستان کے مالیاتی خطرات اور پالیسی کے انتخاب” کے عنوان سے ایک نئی پالیسی رپورٹ جاری کردی

پاکستان کے مالیاتی خطرات اور پالیسی کے انتخاب” کے عنوان سے ایک نئی پالیسی رپورٹ جاری کردی

اسلام آباد۔29مارچ (اے پی پی):پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس ( PIDE) نے “آئل شاکس کا انتظام: پاکستان کے مالیاتی خطرات اور پالیسی کے انتخاب” کے عنوان سے ایک نئی پالیسی رپورٹ جاری کی ہے جس میں خبردار کیا گیا ہے کہ عالمی سطح پر تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتیں پاکستان کی مالیاتی استحکام اور جاری مالی نظم و ضبط کی کوششوں کے لیے سنگین خطرہ بن سکتی ہیں۔ یہ رپورٹ ڈاکٹر ناصر اقبال، رجسٹرار/پروفیسر معاشیات، ڈاکٹر شہزادہ،نعیم نواز پروفیسر معاشیات اور آمنہ ریاض ریسرچ اکنامسٹ نے مرتب کی ہے۔مطالعے کے مطابق خلیجی خطے میں بڑھتی ہوئی جغرافیائی کشیدگی، خصوصاً اسرائیل، امریکہ اور ایران کےدرمیان تنازع اور پیٹرولیم سپلائی روٹس میں رکاوٹوں کے باعث تیل کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ حکومت کی مالی پوزیشن کو کمزور کر سکتا ہے اور میکرو اکنامک استحکام برقرار رکھنے کی صلاحیت کو متاثر کر سکتا ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان کا بجٹ شدہ وفاقی بنیادی سرپلس 1,706 ارب روپے (جی ڈی پی کا 1.3 فیصد) بیرونی تیل کے جھٹکوں کے لیے انتہائی حساس ہے۔

اگر تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل تک پہنچ جائے تو یہ سرپلس کم ہو کر 1,002 ارب روپے رہ سکتا ہے۔ شدید صورتحال میں 120 ڈالر فی بیرل پر یہ مزید کم ہو کر 821 ارب روپے اور انتہائی صورتحال میں 144 ڈالر فی بیرل پر صرف 781 ارب روپے رہ جانے کا امکان ہے۔اسی طرح مالی خسارہ جو بجٹ میں 6,501 ارب روپے (جی ڈی پی کا 5.0 فیصد) رکھا گیا ہے، بڑھ کر 7,517 ارب روپے (جی ڈی پی کا 5.8 فیصد) تک جا سکتا ہے، جو مالی دباؤ میں نمایاں اضافے کی نشاندہی کرتا ہے۔رپورٹ کے مطابق تیل کی قیمتوں میں اضافہ صرف درآمدی بل کو نہیں بڑھاتا بلکہ مہنگائی میں اضافہ، شرح مبادلہ پر دباؤ، معاشی سرگرمیوں میں سست روی اور کاروباری اعتماد میں کمی کا بھی باعث بنتا ہے۔ ایک تیل درآمد کرنے والے ملک کے طور پر پاکستان عالمی خام تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ سے شدید متاثر ہوتا ہے۔مطالعے میں بتایا گیا ہے کہ ماضی میں جب برینٹ خام تیل کی قیمت 110 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی تو پاکستان میں مہنگائی دوہرے ہندسوں میں رہی، جبکہ کم قیمتوں کے ادوار میں عارضی معاشی ریلیف دیکھنے میں آیا۔

پی آئی ڈی ای نے کہا ہے کہ تیل کے جھٹکوں کے مالی اثرات صرف ایندھن کی قیمتوں تک محدود نہیں ہوتے بلکہ یہ کم ٹیکس وصولیوں، توانائی شعبے میں اضافی مالی معاونت، شرح مبادلہ پر دباؤ اور دیگر مالی ذمہ داریوں میں اضافے کی صورت میں بھی سامنے آتے ہیں۔رپورٹ میں نشاندہی کی گئی ہے کہ پیٹرولیم لیوی اور سبسڈی اخراجات طویل عرصے سے ایسے حالات میں حکومت کے مالی ردعمل کا اہم حصہ رہے ہیں۔ تاہم، پاکستان اس وقت آئی ایم ایف کےایکسٹینڈڈ فنڈ فیسلٹی پروگرام کے تحت سخت مالی اہداف کا پابند ہے، جس کے باعث پیٹرولیم لیوی میں کمی کی گنجائش محدود ہے۔اسی لیے وفاقی بنیادی توازن کو اس بات کے تعین کے لیے کلیدی اہمیت حاصل ہے کہ آیا پاکستان بیرونی تیل کے جھٹکوں کو قرضوں کے استحکام اور معاشی استحکام کو متاثر کیے بغیر برداشت کر سکتا ہے یا نہیں۔پی آئی ڈی ای نے حکومت کو مشورہ دیا ہے کہ وہ مالی نظم و ضبط پر مبنی اور دور اندیش پالیسی اپنائے، بنیادی توازن کو مرکزی حیثیت دے، ٹیکس نظام کو مضبوط بنائے، ٹیکس تعمیل بہتر کرے، مالی ضیاع کم کرے، زیادہ آمدنی والے شعبوں کی ڈیجیٹل نگرانی تیز کرے اور غیر ضروری اخراجات میں کمی لا کر مالی گنجائش پیدا کرے۔

ساتھ ہی سماجی تحفظ کے اخراجات اور اہم ترقیاتی منصوبوں کا تحفظ یقینی بنانے، اور انفراسٹرکچر، پیداواری صلاحیت اور برآمدات کے فروغ میں سرمایہ کاری جاری رکھنے پر بھی زور دیا گیا ہے تاکہ مالی اصلاحات طویل مدتی ترقی اور استحکام کو متاثر نہ کریں۔رپورٹ میں معتدل، شدید اور انتہائی تیل کے جھٹکوں سے نمٹنے کے لیے ایک واضح اور پیشگی طے شدہ مالی حکمت عملی وضع کرنے کی بھی سفارش کی گئی ہے۔