اسلام آباد۔6اپریل (اے پی پی):پاکستان عالمی تعلیمی منظرنامے میں اپنی مضبوط موجودگی کا اظہار کرنے کے لیے گیارہویں سالانہ یوریشیا ہائر ایجوکیشن سمٹ 2026 میں بھرپور انداز میں شرکت کرے گا، جو 7 سے 9 اپریل تک استنبول، ترکیہ میں منعقد ہوگا۔ اس اہم بین الاقوامی ایونٹ میں پاکستان کا 42 رکنی اعلیٰ سطحی وفد شریک ہوگا، جبکہ پاکستان پویلین کے قیام کے ذریعے ملکی اعلیٰ تعلیم کی صلاحیتوں کو نمایاں طور پر پیش کیا جائے گا۔ پاکستان پویلین اس سمٹ میں مرکزِ توجہ بننے کی توقع ہے، جہاں ملک کی جامعات اپنے تحقیقی معیار، جدید تعلیمی پروگرامز اور اختراعی اقدامات کو عالمی اداروں کے سامنے پیش کریں گی۔ یہ پلیٹ فارم نہ صرف پاکستانی تعلیمی اداروں کی عالمی سطح پر پہچان کو مضبوط کرے گا بلکہ بین الاقوامی تعاون، مشترکہ تحقیق اور تعلیمی روابط کے فروغ میں بھی اہم کردار ادا کرے گا۔ وفد کی قیادت چیئرمین ایپ سپ پروفیسر ڈاکٹر چوہدری عبد الرحمٰن کر رہے ہیں جبکہ اس میں ملک کی صفِ اول کی جامعات کے نمائندگان شامل ہیں۔
پاکستان پویلین میں شریک نمایاں اداروں میں سپیریئر یونیورسٹی، یونیورسٹی آف لاہور، یونیورسٹی آف فیصل آباد، یونیورسٹی آف سیالکوٹ، لاہور لیڈز یونیورسٹی، اقرا یونیورسٹی کراچی، رفاہ انٹرنیشنل یونیورسٹی اسلام آباد، پریسٹن یونیورسٹی، سٹی یونیورسٹی، سیکوس یونیورسٹی، انسٹی ٹیوٹ آف بزنس مینجمنٹ کراچی اور گفٹ یونیورسٹی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ او آئی سی کامسٹیک، سندھ ہائر ایجوکیشن کمیشن، بحریہ یونیورسٹی اور یونیورسٹی آف ساؤتھ ایشیا کے نمائندگان بھی وفد کا حصہ ہوں گے، جو پالیسی سطح پر مکالمے، تعلیمی روابط کے فروغ اور بین الاقوامی اشتراک کو وسعت دینے میں اپنا کردار ادا کریں گے۔
سمٹ کے دوران پاکستانی وفد مختلف سیشنز میں شرکت کے ساتھ ساتھ ترکیہ کی معروف جامعات کے دورے بھی کرے گا۔ اس کے علاوہ سمٹ منتظمین اور چیئرمین اے پی ایس یو پی کی جانب سے منعقدہ استقبالیہ تقریبات میں بھی شرکت کی جائے گی، جہاں اہم تعلیمی ملاقاتیں، شراکت داری پر تبادلہ خیال اور مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط متوقع ہیں۔ ماہرین کے مطابق یوریشیا ہائر ایجوکیشن سمٹ میں پاکستان کی بھرپور شرکت عالمی تعلیمی برادری میں ملک کے بڑھتے ہوئے کردار کی عکاسی کرتی ہے۔ یہ اقدام نہ صرف اعلیٰ تعلیم، تحقیق اور جدت کے شعبوں میں نئے مواقع پیدا کرے گا بلکہ طلبہ اور اساتذہ کے بین الاقوامی تبادلوں کو بھی فروغ دے گا جس سے پاکستان کا تعلیمی شعبہ مزید مستحکم ہوگا۔