پاکستان ایک مضبوط، ذمہ دار اور اسٹریٹجک عالمی قوت کے طور پر ابھر کر سامنے آیا ہے ، ہارون اختر خان

پاکستان ایک مضبوط، ذمہ دار اور اسٹریٹجک عالمی قوت کے طور پر ابھر کر سامنے آیا ہے ، ہارون اختر خان

لاہور۔11اپریل (اے پی پی):وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان نے کہا ہے کہ پاکستان نے مشکل حالات میں دانشمندی اور عزم کے ساتھ عالمی چیلنجز کا مقابلہ کیا،تاریخ کے اہم لمحات جنگ کے میدان میں نہیں بلکہ مذاکرات کی میز پر طے ہوتے ہیں، پاکستان ایک مضبوط، ذمہ دار اور اسٹریٹجک عالمی قوت کے طور پر ابھر کر سامنے آیا ہے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہفتہ کو لاہور میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی عالمی تباہی کا سبب بن سکتی تھی، پاکستان نے اس نازک صورتحال میں توازن، تحمل اور مکالمے کی آواز بلند کی۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں پاکستان نے مؤثر سفارتکاری کا مظاہرہ کیا،پاکستان نے مشکل حالات میں دانشمندی اور عزم کے ساتھ عالمی چیلنجز کا مقابلہ کیا، اسلام آباد ایکارڈ امن، اعتماد اور باہمی احترام کی علامت ہے۔ہارون اختر خان نے کہا کہ تاریخ کے اہم لمحات جنگ کے میدان میں نہیں بلکہ مذاکرات کی میز پر طے ہوتے ہیں،پاکستان ایک مضبوط، ذمہ دار اور اسٹریٹجک عالمی قوت کے طور پر ابھر کر سامنے آیا ہے۔

ہارون اختر خان نے کہا کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے توانائی بحران کے خطرے سے نمٹنے کیلئے دن رات محنت کی، تیل کی بڑھتی قیمتوں کے باوجود عوام کو ریلیف دینے کیلئے جامع حکمت عملی تشکیل دی گئی،یہی اصل قیادت ہے، جو صرف باتوں نہیں بلکہ عملی اقدامات سے ثابت ہوتی ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کی کاوشوں سے کشیدگی میں کمی آئی اور عالمی امن کو فروغ ملا، ان اقدامات سے پاکستان کا عالمی تشخص اور ساکھ مزید مضبوط ہوئی،حقیقی قیادت طاقت کے ساتھ ساتھ دانشمندی سے تنازعات کو روکنے میں ہے،پاکستان عالمی سطح پر قیادت کے ساتھ ساتھ اندرون ملک معاشی بحالی کی نئی داستان رقم کر رہا ہے۔

ہارون اختر خان نے کہا کہ ہم قلیل مدتی اقدامات سے نکل کر طویل مدتی اصلاحات کی جانب گامزن ہیں،پاکستان کو ایک مسابقتی صنعتی معیشت بنانے کا واضح وژن موجود ہے،نیشنل انڈسٹریل پالیسی صنعتی ترقی اور بحالی کا جامع خاکہ ہے۔انہوں نے کہا کہ ایس ایم ایز کو بااختیار بنانے اور کاروبار کیلئے سازگار ماحول فراہم کیا جا رہا ہے،

حکومت سہولت کار اور نجی شعبہ ترقی کا انجن بنے گا،ریگولیٹری گیلوٹین کے ذریعے غیر ضروری قوانین کا خاتمہ کیا جا رہا ہے،ٹریکٹر پالیسی زرعی شعبے کو مضبوط کرے گی،موبائل و الیکٹرانکس پالیسی ٹیکنالوجی مینوفیکچرنگ اور برآمدات کو فروغ دے گی۔انہوں نے کہا کہ نئی بیٹری اسٹوریج اور جدید ڈیوائسز پالیسیز مستقبل کی صنعتوں میں پاکستان کا مقام مستحکم کریں گی ،پاکستان میں صاف اور پائیدار توانائی کی جانب منتقلی ناگزیر ہو چکی ہے۔