پاکستان اور ترکیہ کے درمیان جوڈیشل کوآپریشن فریم ورک پر 6 اپریل کو دستخط کیے جائیں گے

پاکستان اور ترکیہ کے درمیان جوڈیشل کوآپریشن فریم ورک پر 6 اپریل کو دستخط کیے جائیں گے

اسلام آباد۔5اپریل (اے پی پی):سپریم کورٹ آف پاکستان 6 تا 9 اپریل 2026 کے دوران جمہوریہ ترکیہ کی آئینی عدالت کے ایک اعلیٰ سطحی وفد کی میزبانی کرے گی، جس کی قیادت ترکیہ کی آئینی عدالت کے صدر قادر اوزکایا کریں گے جبکہ وفد میں معزز ججز اور اعلیٰ حکام بھی شامل ہوں گے۔ سپریم کورٹ کے شعبہ تعلقات عامہ کی جانب سے اتوار کو جاری اعلامیہ کے مطابق ترکیہ کے اعلیٰ سطحی وفد کے دورہ کی ایک اہم خصوصیت 6 اپریل کو سپریم کورٹ آف پاکستان میں دونوں ممالک کے دوران عدالتی تعاون سے متعلق مفاہمت کی ایک یادداشت (ایم او یو) پر دستخط ہوگی۔ توقع ہے کہ اس مفاہمت نامہ سے باہمی تعاون کے لیے ایک منظم اور مستقبل کے حوالے سے فریم ورک قائم کیا جائے گا جس میں عدالتی تبادلے، صلاحیت اور عدالتی فیصلوں میں بہتری کے حوالہ سے اشتراک پر توجہ دی جائے گی۔

یہ اقدام آئین کی حکمرانی کے استحکام ، قانون کی حکمرانی کو برقرار رکھنے اور عدالتی آزادی کو تقویت دینے کے ساتھ ساتھ دونوں ممالک کی اعلیٰ عدالتوں کے درمیان قریبی ادارہ جاتی روابط کو فروغ دینے کے لیے پاکستان اور ترکیہ کے مشترکہ عزم کی عکاسی کرتا ہے۔دو طرفہ مجوزہ تعاون کی ایک مرکزی خصوصیت عدلیہ کی پیشہ ورانہ ترقی بھی ہے جس میں خاص طور پر ضلعی سطح پر، مشترکہ تربیتی پروگراموں، تعلیمی تبادلوں اور تقابلی عدالتی طریقہ کار سے استفادہ پر توجہ مرکوز کی جائے گی۔ اس تعاون سے عدالتی عمل میں جدید ٹیکنالوجی کے انضمام میں بھی مدد کی توقع ہے جس کا مقصد کارکردگی، شفافیت اور انصاف کی رسائی کو بہتر بنانا ہے۔

مفاہمت نامہ میں ایک مشترکہ ورکنگ گروپ کے قیام کو بھی شامل کیا گیا ہے تاکہ تعاون کے متفقہ شعبوں پر پائیدار شمولیت اور موثر نفاذ کو یقینی بنایا جا سکے۔اپنے قیام کے دوران ترکیہ کا وفد انصاف کے شعبے کے اہم شراکتداروں سے ملاقاتوں کے ساتھ ساتھ اعلیٰ سطحی ادارہ جاتی تبادلہ خیال بھی کرے گا۔ ان مباحثوں میں عدلیہ، عدالتی انتظامیہ اور اصلاحات پر مبنی اقدامات میں عصری چیلنجز پر توجہ مرکوز کی جائے گی۔سرکاری مصروفیات کے علاوہ، وفد ٹیکسلا اور لاہور کا دورہ کرے گا جو پاکستان کے شاندار ثقافتی ورثہ کی عکاسی کرتا ہے اور عوام سے عوام اور ادارہ جاتی روابط کی اہمیت کو بھی اجاگر کرتا ہے۔ایم او یو پر دستخط کی تقریب سپریم کورٹ آف پاکستان سے براہ راست نشر کی جائے گی اور اس اہم موقع کی شفافیت اور عوام کی رسائی کو یقینی بنایا جائے گا۔

سپریم کورٹ آف پاکستان اور وفاقی آئینی عدالت کے ججز کے علاوہ ہائی کورٹس کے چیف جسٹسز، وفاقی وزیر قانون و انصاف، اٹارنی جنرل پاکستان، سیکرٹری وزارت قانون و انصاف، سیکرٹری وزارت خارجہ، ضلعی عدلیہ کے ججز اور قانونی حلقوں کے نمائندے بھی دستخط کی تقریب میں شریک ہوں گے۔ یہ دورہ سپریم کورٹ آف پاکستان کی ایک جدید، موثر، اور جوابدہ نظام انصاف کو فروغ دینے کی وسیع تر کوششوں کا حصہ ہے جو بین الاقوامی بہترین طریقوں سے ہم آہنگ ہے اور عوامی اعتماد کے فروغ اور انصاف تک رسائی کے عزم کا بھی عکاس ہے۔