اسلام آباد۔27مارچ (اے پی پی):پاکستان اور تاجکستان نے مجوزہ ترجیحی تجارتی معاہدے (Preferential Trade Agreement) (پی ٹی اے) پر پیش رفت کے لیے پاکستان۔ تاجکستان مشترکہ ورکنگ گروپ کے تیسرے اجلاس میں مذاکرات کیے۔ پاکستانی فریق نے نشاندہی کی کہ گزشتہ اعلیٰ سطحی اجلاسوں، جو دوشنبے اور اسلام آباد میں منعقد ہوئے، کے بعد مسودہ شیئر کیا جا چکا ہے تاہم اس پر کوئی باضابطہ جواب موصول نہیں ہوا۔ پاکستان -تاجکستان مشترکہ ورکنگ گروپ برائے تجارت، سرمایہ کاری اور ٹرانسپورٹ کا تیسرا اجلاس ورچوئل انداز میں منعقد ہوا۔ جمعہ کو جاری کردہ اعلامیے کے مطابق یہ اجلاس چار سال کے وقفے کے بعد منعقد ہوا جس کی مشترکہ صدارت پاکستان کی وزارت تجارت کے ایڈیشنل سیکرٹری ناصر حمید اور تاجکستان کے نائب وزیر برائے اقتصادی ترقی و تجارت نورالدین زادہ اہل الدین نورالدین نے کی۔
تاجک وفد نے بتایا کہ مالیاتی مشکلات اور ممکنہ محصولات میں کمی کے خدشات کے باعث وہ فی الحال پی ٹی اے پر دستخط کرنے سے قاصر ہیں اور اس کے بجائے تجارت و اقتصادی تعاون کے لیے ایک درمیانی مدتی روڈ میپ تیار کرنے کی تجویز دی ہے۔ اس روڈ میپ میں جس میں مستقبل میں پی ٹی اے مذاکرات بھی شامل ہو سکتے ہیں، پاکستان کے قازقستان اور ازبکستان کے ساتھ موجود معاہدوں کی طرز پر قابلِ پیمائش اور وقت کے تعین شدہ اہداف شامل کیے جائیں گے۔ علاقائی رابطہ کاری کے حوالے سے دونوں فریقین نے پاکستان۔ چین۔ تاجکستان روڈ ٹرانسپورٹ کوریڈور کو فعال بنانے کی اہمیت پر بھی زور دیا۔پاکستان نے نشاندہی کی کہ اصولی اتفاق کے باوجود تاجکستان نے ابھی تک Quadrilateral Agreement on Transit Transport (QTTA) میں شمولیت کے حوالے سے اپنی حتمی رائے نہیں دی۔تاجک وزارت ٹرانسپورٹ نے کہا کہ وہ اس معاہدے میں شمولیت کو اہم سمجھتی ہے، تاہم QTTA کے آرٹیکل 7 کے تحت یکساں کسٹمز طریقہ کار کے نفاذ سے متعلق مزید وضاحت درکار ہے۔دونوں ممالک نے اس بات پر اتفاق کیا کہ نئے سہ فریقی معاہدے کی تجویز کے بجائے موجودہ QTTA میں تاجکستان کی شمولیت کو ترجیح دی جائے جبکہ نئے معاہدے کو طویل المدتی منصوبہ قرار دیا گیا۔اجلاس کے دوران دونوں وفود نے دوطرفہ تجارت کے حجم کا تفصیلی جائزہ لیا اور کسٹمز ڈیٹا میں نمایاں فرق کی نشاندہی کی۔
پاکستانی فریق کے مطابق مالی سال 2024ـ25 میں تجارت کا حجم 29 ملین ڈالر رہا جبکہ تاجک فریق کے مطابق کیلنڈر سال 2025 میں یہ حجم 43.02 ملین ڈالر ریکارڈ کیا گیا جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 15 ملین ڈالر کی کمی کو ظاہر کرتا ہے۔ان اختلافات کو دور کرنے کے لیے دونوں فریقین نے سہ ماہی بنیادوں پر ڈیٹا کے تبادلے کے نظام کے قیام کی ضرورت پر زور دیا۔ورکنگ گروپ نے بالخصوص فارماسیوٹیکل اور ٹیکسٹائل شعبوں میں مشترکہ منصوبوں کے قیام کے حوالے سے صنعتی تعاون پر بھی غور کیا۔ تاجکستان نے پنج پوین فری اکنامک زون میں پاکستانی کمپنیوں کو مینوفیکچرنگ یا ڈسٹری بیوشن سہولیات قائم کرنے کے لیے دی جانے والی خصوصی مراعات سے متعلق معلومات فراہم کرنے پر اتفاق کیا۔مزید برآں مرغاب یا پنج پوین کے علاقوں میں مشترکہ ایگرو لاجسٹکس سینٹر کے قیام میں بھی دلچسپی ظاہر کی گئی۔
دونوں ممالک نے شہد، خشک میوہ جات، کپاس اور سبزیوں سمیت زرعی مصنوعات کی تجارت کے فروغ کے لیے اپنے تجارتی اتاشیوں کے ذریعے کاروباری مواقع اور مارکیٹ معلومات فراہم کرنے کا عزم کیا۔اقتصادی تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے لیے وفود نے ٹریڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان اور تاجکستان کی ایکسپورٹس ایجنسی کے درمیان، نیز ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان اور اسٹیٹ میٹریل ریزروز ایجنسی کے درمیان مفاہمتی یادداشتوں (MoUs) کو حتمی شکل دینے پر کام کیا۔ ان معاہدوں پر آئندہ اعلیٰ سطحی دورے کے دوران دستخط متوقع ہیں۔مزید برآں دونوں فریقین نے ڈیجیٹل تعاون کے عزم کا اعادہ کیا، جس میں پاکستان سنگل ونڈو اور تاجک کسٹمز سروس کے درمیان الیکٹرانک ڈیٹا ایکسچینج گیٹ وے کی ترقی شامل ہے۔دونوں ممالک نے اس عزم کا اظہار کیا کہ دوطرفہ تجارت میں اضافے اور طے شدہ فیصلوں پر عمل درآمد کے لیے مشترکہ ورکنگ گروپ کے اجلاس باقاعدگی سے منعقد کیے جائیں گے۔