پاکستان اور برطانیہ کے درمیان براہِ راست پروازوں کی بحالی سے ملک میں سیاحت کے شعبے کو نمایاں فروغ حاصل ہو گا، آفتاب الرحمان رانا

پاکستان اور برطانیہ کے درمیان براہِ راست پروازوں کی بحالی سے ملک میں سیاحت کے شعبے کو نمایاں فروغ حاصل ہو گا، آفتاب الرحمان رانا

اسلام آباد۔28مارچ (اے پی پی):پاکستان اور برطانیہ کے درمیان براہِ راست پروازوں کی بحالی خصوصاً اسلام آباد اور لاہور سے لندن کے لیے پاکستان کے سیاحت کے شعبے کو نمایاں فروغ دے گی۔ یہ بات پاکستان ٹورازم ڈیولپمنٹ کارپوریشن کے منیجنگ ڈائریکٹر آفتاب الرحمان رانا نے کہی۔ اس مثبت پیش رفت کا خیرمقدم کرتے ہوئے آفتاب الرحمان رانا نے کہا کہ برطانیہ جیسے اہم بین الاقوامی منڈیوں کے ساتھ بہتر فضائی روابط پاکستان تک غیر ملکی سیاحوں کی رسائی کو نمایاں طور پر آسان بنائیں گے خصوصاً بڑی پاکستانی کمیونٹی اور ان بین الاقوامی مسافروں کے لیے جو مستند ثقافتی اور مہماتی تجربات کے متلاشی ہیں۔انہوں نے کہا کہ چھ سال کے وقفے کے بعد 29 مارچ 2026 سے لندن کے لیے براہِ راست پروازوں کی بحالی اندرونی سیاحت کی بحالی کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ اس سے نہ صرف سفر میں آسانی پیدا ہوگی بلکہ پاکستان کو ایک محفوظ، متحرک اور مہمان نواز سیاحتی مقام کے طور پر عالمی اعتماد کی بحالی میں بھی مدد ملے گی۔

انہوں نے مزید زور دیا کہ پاکستان میں سیاحتی معیشت کو فروغ دینے کے لیے یورپ، وسطی ایشیا اور مشرقِ بعید کے مزید شہروں کے ساتھ براہِ راست پروازوں کا آغاز انتہائی ضروری ہے۔برطانیہ پاکستان کے لیے سیاحت کا ایک اہم ذریعہ رہا ہے۔ اسلام آباد، لاہور اور لندن کے درمیان بہتر رابطے سے سیاحوں کی آمد میں اضافہ، ورثہ اور ثقافتی سیاحت کا فروغ، اور کاروباری و سرمایہ کاری کے سفر کو تقویت ملنے کی توقع ہے۔

پاکستان سیاحوں کے لیے منفرد کشش رکھتا ہے، جس میں شمال کے دلکش پہاڑی مناظر، قدیم آثارِ قدیمہ کے مقامات، رنگا رنگ ثقافتی روایات اور متنوع کھانوں کے تجربات شامل ہیں۔ بہتر بین الاقوامی رسائی کے ساتھ، ملک دنیا بھر کے سیاحوں کے ایک وسیع طبقے کو متوجہ کرنے کے لیے موزوں حیثیت رکھتا ہے۔پاکستان ٹورازم ڈیولپمنٹ کارپوریشن عوامی و نجی شعبوں کے شراکت داروں کے ساتھ مل کر پاکستان کو ایک ممتاز سیاحتی مقام کے طور پر فروغ دینے اور پائیدار و ذمہ دار سیاحت کے فروغ کے لیے پْرعزم ہے۔