اسلام آباد۔2اپریل (اے پی پی):پاکستان، ترکیہ، مصر، انڈونیشیا، اردن، قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے وزرائے خارجہ نے اسرائیلی قابض طاقت کی جانب سے اپنی پارلیمنٹ (کنیسٹ) میں ایسے قانون کی منظوری کی شدید مذمت کی ہے جو مقبوضہ مغربی کنارے میں سزائے موت کے نفاذ کی اجازت دیتا ہے اور جس کا عملی اطلاق فلسطینیوں کے خلاف کیا جارہا ہے۔ جمعرات کو دفتر خارجہ کے مطابق وزرائے خارجہ نے اپنے مشترکہ بیان میں اسرائیل کی بڑھتی ہوئی امتیازی اور جارحانہ پالیسیوں پر تشویش کا اظہار کیا جو ایک نسلی امتیاز پر مبنی نظام کو مضبوط کرتی ہیں اور ایسے بیانیے کو فروغ دیتی ہیں جومقبوضہ فلسطینی علاقوں میں فلسطینی عوام کے ناقابلِ تنسیخ حقوق بلکہ ان کے وجود تک سے انکار کرتا ہے۔
وزرائے خارجہ نے کہا کہ یہ قانون سازی خصوصاً اس کے فلسطینی قیدیوں کے خلاف امتیازی اطلاق کے تناظر میں ایک خطرناک شدت اختیار کرنے کے مترادف ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ایسے اقدامات کشیدگی کو مزید بڑھاسکتے ہیں اور علاقائی استحکام کو نقصان پہنچاسکتے ہیں۔ وزرائے خارجہ نے اسرائیلی حراست میں فلسطینی قیدیوں کی حالت پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور قابل اعتماد اطلاعات کے تناظر میں بڑھتے ہوئے خطرات سے خبردار کیا جن میں تشدد، غیر انسانی اور توہین آمیز سلوک، فاقہ کشی اور بنیادی حقوق سے محرومی شامل ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ یہ اقدامات فلسطینی عوام کے خلاف وسیع تر خلاف ورزیوں کے ایک تسلسل کی عکاسی کرتے ہیں۔وزرائے خارجہ نے فلسطینیوں کے خلاف اسرائیل کی نسلی امتیاز پر مبنی، جابرانہ اور جارحانہ پالیسیوں کی اپنی مخالفت کا اعادہ کیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ قابض طاقت ایسے اقدامات سے گریز کرے جو زمینی صورتحال کو مزید خراب کرسکتے ہیں۔ انہوں نے احتساب کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے استحکام کو برقرار رکھنے اور مزید بگاڑ کو روکنے کےلئے عالمی کوششوں کو مضبوط بنانے کا مطالبہ کیا۔