اسلام آباد۔7اپریل (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن شزہ فاطمہ خواجہ نےکہاہےکہ سیمی کنڈکٹر ٹیکنالوجیز جدت اور معاشی ترقی کے مرکز میں ہیں اور نیشنل سیمی کنڈکٹر ہیومن ریسورس ڈویلپمنٹ پروگرام انسپائر جیسے اقدامات پاکستان کو عالمی سیمی کنڈکٹر ویلیو چین میں شامل ہونے کا راستہ فراہم کریں گے۔وزارتِ آئی ٹی و ٹیلی کام سے جاری بیان کے مطابق وزارتِ آئی ٹی و ٹیلی کام نےوزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کے سٹریٹجک اقدام کے تحت منگل کو نیشنل سیمی کنڈکٹر ہیومن ریسورس ڈویلپمنٹ پروگرام (NSHRDP – INSPIRE) کے تحت اپ سکلنگ ٹریننگ پروگرام (یوایس ٹی پی) کی تقریب کے انعقاد کے ساتھ ایک اہم سنگِ میل حاصل کیا۔کُل 4.844 ارب پاکستانی روپے کے منظور شدہ بجٹ کے ساتھ این ایس ایچ آر ڈی پی وزیراعظم شہباز شریف کا ایک نمایاں فلیگ شپ اقدام ہے جس کا مقصد سیمی کنڈکٹر صنعت میں اعلیٰ مہارت یافتہ ہیومن ریسورس کی تیاری اور پاکستان کو عالمی منڈی میں ایک مسابقتی مرکز کے طور پر پیش کرنا ہے۔
یہ پروگرام پاکستان سافٹ ویئر ایکسپورٹ بورڈ کے ذریعے نافذ کیا جا رہا ہے جو بین الاقوامی صنعتی تقاضوں سے ہم آہنگ ایک مضبوط ٹیلنٹ پول تیار کرنے کی قیادت کر رہا ہے،اس اقدام کے تحت یوایس ٹی پی کے لئے غلام اسحاق خان انسٹی ٹیوٹ آف انجینئرنگ سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی (جی آئی کے آئی) یونیورسٹی اور این ای ڈی یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کے درمیان ایک باضابطہ معاہدہ طے پایا ہے۔ اس معاہدے کے تحت شرکاء کو سیمی کنڈکٹر ٹیکنالوجیز، خصوصاً ڈیجیٹل ڈیزائن اور ویریفیکیشن میں خصوصی مہارتیں فراہم کرنے کے منصوبے مرتب کئے گئے ہیں۔چار ماہ پر مشتمل اپ سکلنگ ٹریننگ کے دوران جی آئی کے آئی تربیت فراہم کرے گا جبکہ این ای ڈی یونیورسٹی ہنر مند اور صنعت کے لئے تیار ہیومن ریسورس کی تیاری کے وسیع مقاصد میں معاونت کرے گی۔ یہ تربیت اپریل 2026 میں پروگرام کے آغاز کے بعد مئی 2026 میں شروع ہونے کی توقع ہے۔
تقریب میں انسپائر پروجیکٹ سٹیئرنگ کمیٹی کے چیئرمین، وائس چانسلر این ای ڈی یونیورسٹی اور ریکٹرجی آئی کے آئی یونیورسٹی شامل تھے جبکہ تعلیمی اور صنعتی شعبوں کے اہم سٹیک ہولڈرز بھی موجود تھے۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر برائے آئی ٹی و ٹیلی کام شزہ فاطمہ خواجہ نے اس اقدام کو حکومت کے اس عزم کا مظہر قرار دیا کہ پاکستان کے نوجوانوں کو بااختیار اور انہیں جدید عالمی ٹیکنالوجی کی صنعتوں میں حصہ لینے کے قابل بنایا جائے۔ انہوں نے زور دیا کہ سیمی کنڈکٹر ٹیکنالوجیز جدت اور معاشی ترقی کے مرکز میں ہیں اوراین ایس ایچ آرڈی پی جیسے اقدامات پاکستان کو عالمی سیمی کنڈکٹر ویلیو چین میں شامل ہونے کا راستہ فراہم کریں گے۔وفاقی وزیر نے اس بات پر بھی اعتماد کا اظہار کیا کہ تعلیمی اداروں اور حکومت کے درمیان یہ اشتراک ملک کے ڈیجیٹل مستقبل کے لئے مؤثر نتائج فراہم کرے گا۔وزارت اس عزم کا اعادہ کرتی ہے کہ وہ حکومتِ پاکستان کے ڈیجیٹل معیشت کے ایجنڈے اور وزیرِ اعظم کے وژن ’’ڈیجیٹل نیشن پاکستان‘‘ کی کامیاب تکمیل کے لئے اپنی کوششیں جاری رکھے گی۔