اسلام آباد۔31مارچ (اے پی پی):حکومت نے جاری مالی سال کے دوران حاصل ہونے والی نمایاں معاشی کامیابیوں کو اجاگر کرتے ہوئے کہا ہے کہ میکرو اکنامک استحکام، مالیاتی نظم و ضبط اور بیرونی شعبے کے اشاریوں میں بہتری دیکھنے میں آئی ہے۔منگل کو وزارتِ خزانہ کی جانب سے جاری کردہ مارچ 2026 کی ماہانہ معاشی اپڈیٹ اینڈ آؤٹ لک کے مطابق مالی سال 2025-26 کے پہلے آٹھ ماہ کے دوران قومی معیشت نے مختلف شعبوں میں حوصلہ افزا ءپیشرفت دکھائی۔بیرونی کھاتہ میں نمایاں بہتری دیکھنے میں آئی جہاں فروری 2026 میں کرنٹ اکاؤنٹ 427 ملین ڈالر سرپلس رہا جو رواں مالی سال کا سب سے بڑا سرپلس ہے، اس میں ترسیلاتِ زر میں اضافہ اور درآمدات میں کمی نے اہم کردار ادا کیا۔مجموعی طور پر جولائی تا فروری کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ صرف 700 ملین ڈالر تک محدود رہا جو مؤثر حکمتِ عملی کا مظہر ہے،ترسیلاتِ زر معیشت کا مضبوط سہارا بن کر سامنے آئیں جو 10.5 فیصد اضافے کے ساتھ 26.5 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں۔
زرمبادلہ کے ذخائر بھی بڑھ کر مارچ 2026 کے وسط تک 21.7 ارب ڈالر ہو گئے جو چار سال کی بلند ترین سطح ہے اور عالمی معاشی جھٹکوں سے نمٹنے میں مددگار ثابت ہو رہے ہیں۔ڈیجیٹل معیشت میں بھی مثبت پیشرفت ہوئی۔ آئی ٹی برآمدات میں اضافہ جاری رہا جس سے زرِ مبادلہ کے ذخائر میں مزید بہتری آئی۔براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (FDI) 1.2 ارب ڈالر رہی جس کا بڑا حصہ توانائی اور مالیاتی شعبوں میں آیا، جو سرمایہ کاروں کے اعتماد کا مظہر ہے۔ملکی سطح پر بڑے صنعتی شعبے (LSM) میں جولائی تا جنوری 5.8 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا جبکہ گزشتہ سال اسی عرصے میں کمی تھی۔ یہ اضافہ آٹو موبائل، ٹیکسٹائل، خوراک اور پٹرولیم مصنوعات کی صنعتوں میں ترقی کے باعث ہوا۔آٹو موبائل سیکٹر میں نمایاں بہتری دیکھنے میں آئی جہاں ٹرک اور بسوں کی پیداوار میں 78.4 فیصد جبکہ گاڑیوں کی پیداوار میں 52.3 فیصد اضافہ ہوا۔زرعی شعبہ خاص طور پر ربیع سیزن میں حکومتی اقدامات کے مثبت اثرات سامنے آئے۔
زرعی قرضوں کی فراہمی 11.1 فیصد اضافے کے ساتھ 1,649 ارب روپے تک پہنچ گئی جبکہ زرعی مشینری کی درآمدات میں 17.1 فیصد اضافہ ہوا۔ کھاد کی فروخت میں بھی اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس سے فصلوں کی پیداوار بہتر ہونے کی توقع ہے۔مالیاتی نظم و ضبط حکومت کی اہم کامیابیوں میں شامل رہا۔ جولائی تا جنوری مالی خسارہ کم ہو کر 64.7 ارب روپے رہ گیا جبکہ گزشتہ سال اسی عرصے میں یہ 2,070.9 ارب روپے تھا۔وفاقی آمدن 9.3 فیصد اضافے کے ساتھ 11,218.8 ارب روپے تک پہنچ گئی جبکہ ایف بی آر نے جولائی تا فروری 8,122.2 ارب روپے جمع کیے، جو 10.6 فیصد اضافہ ظاہر کرتا ہے۔وفاقی اخراجات میں 10.7 فیصد کمی آئی خاص طور پر سود کی ادائیگیوں میں کمی کی وجہ سے جبکہ ترقیاتی اخراجات میں 13 فیصد اضافہ کیا گیا۔پرائمری سرپلس جی ڈی پی کے 3.2 فیصد تک بہتر ہوا، جو مالیاتی استحکام کی عکاسی کرتا ہے۔
مہنگائی فروری 2026 میں معمولی اضافے کے ساتھ 7 فیصد رہی تاہم مجموعی طور پر پہلے آٹھ ماہ میں اوسط 5.5 فیصد رہی، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں کم ہے۔مانیٹری اشاریے بھی مثبت رہے، نجی شعبے کو قرضوں میں اضافہ اور منی سپلائی میں بہتری دیکھی گئی جبکہ پالیسی ریٹ 10.5 فیصد پر برقرار رکھا گیا تاکہ مہنگائی اور معاشی ترقی میں توازن قائم رکھا جا سکے۔عالمی غیر یقینی صورتحال اور مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے باوجود حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کے وافر ذخائر کو یقینی بنایا اور توانائی کے شعبے میں اصلاحات جاری رکھیں۔
سماجی تحفظ کے پروگراموں میں بھی توسیع کی گئی۔ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کے تحت ادائیگیاں 36.9 فیصد اضافے کے ساتھ 329.8 ارب روپے تک پہنچ گئیں جبکہ بلاسود قرضوں کی سکیمیں بھی جاری رہیں۔رپورٹ کے مطابق جاری اصلاحات، بہتر معاشی اشاریے اور مؤثر پالیسی اقدامات نے معیشت کو پائیدار ترقی ملے گی ۔