لاہور۔28مارچ (اے پی پی):پاکستان علما کونسل کے چیئرمین حافظ طاہر محمود اشرفی نے کہا ہے کہ ایران پر حالیہ حملے کے بعد امت مسلمہ میں گہرے غم اور تشویش کی فضا پائی جاتی ہے اور اس نازک صورتحال میں اتحاد و یکجہتی کی اشد ضرورت ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہفتہ کو ادارہ منہاج الحسین جوہر ٹاؤن میں استحکام پاکستان کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پرمہتمم ادارہ منہاج الحسین محمد حسین اکبر بھی موجود تھے۔ طاہر محمود اشرفی نے کہا کہ موجودہ حالات میں امت مسلمہ کے لیے اتحاد و یکجہتی ناگزیر ہو چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل اور ایران کے درمیان کشیدگی کے دوران ایک حملے میں 164 بچیوں کے سکول کو نشانہ بنایا گیا، تاہم اس سانحہ پر عالمی سطح پر انسانی ہمدردی کا وہ ردعمل سامنے نہیں آیا جو آنا چاہیے تھا۔
انہوں نے ایرانی قیادت خصوصا ًعلی خامنہ ای کی شہادت اور بے گناہ شہریوں کو نشانہ بنائے جانے کو پوری امت کے لیے دکھ کا باعث قرار دیا۔انہوں نے کہا کہ اس وقت جب دشمن قوتیں مسلم ممالک کو نشانہ بنانے کے منصوبے بنا رہی ہیں، سوال یہ ہے کہ امت کب متحد ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ بعض عناصر عرب و ایران کے درمیان جنگ کی فضا پیدا کرنا چاہتے ہیں جبکہ حقیقت میں ایران کی قیادت عرب و اسلامی ممالک سے معذرت کر چکی ہے۔طاہر محمود اشرفی نے زور دیا کہ موجودہ حالات میں جذباتی فیصلوں کے بجائے دانشمندی سے کام لینے کی ضرورت ہے اور پاکستان کے پاس کلبھوشن یادیو جیسے واقعات کی مثالیں موجود ہیں جو دشمن کی سازشوں کو بے نقاب کرتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ قومی پیغام امن کمیٹی نے ملک میں اتحاد و یکجہتی کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا ہے اور دنیا کو پاکستان کے مثبت چہرے سے آگاہ کیا ہے۔
ان کے مطابق اگر ہم داخلی طور پر مضبوط نہ ہوئے تو دشمن کو موقع ملے گا کہ وہ ہمارے خلاف سازشیں کرے۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے ایرانی صدر سے ایک گھنٹہ طویل گفتگو کی ہے جبکہ ترکیہ، مصر اور سعودی عرب کے وزرائے خارجہ بھی پاکستان کا دورہ کر رہے ہیں تاکہ صورتحال کا پرامن حل تلاش کیا جا سکے۔ انہوں نے حرمین شریفین کے تحفظ کو ہر مسلمان کے ایمان کا حصہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ کوئی بھی ان مقدس مقامات کو نقصان پہنچانے کا تصور نہیں کر سکتا۔انہوں نے کہا کہ اسرائیل خطے میں اپنی سازشوں کو تیز کر رہا ہے اور مسجد الاقصی میں پہلی بار عید کی نماز کی ادائیگی نہ ہونا انتہائی افسوسناک ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ لبنان سمیت دیگر علاقوں میں بھی حالات کو خراب کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ پیغام پاکستان ایک اہم قومی بیانیہ ہے جو آئین پاکستان کے بعد بڑی دستاویز کی حیثیت رکھتا ہے اور اتحاد و اتفاق کا درس دیتا ہے۔ انہوں نے مسلم دنیا کے 57 ممالک کی قیادت سے اپیل کی کہ وہ مکہ مکرمہ میں جمع ہو کر مشترکہ لائحہ عمل اختیار کریں اور دشمن کے خلاف ایک ہونے کا اعلان کریں۔پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مہتمم ادارہ منہاج الحسین محمد حسین اکبر نے کہا کہ مومنین کی وحدت کو اللہ تعالی نے اپنی نعمت قرار دیا ہے جبکہ اسلام اور مسلمانوں کے دشمن عناصر امت کو تقسیم کرنے کے درپے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ عالمی سطح پر قوتیں اکٹھی ہو کر مسلمانوں کو نشانہ بنا رہی ہیں اور اس وقت سب سے زیادہ ضرورت اتحاد کی ہے۔محمد حسین اکبر نے کہا کہ اسلامی ممالک کے مقدس مقامات اور ان کے باشندے سب مسلمانوں کے لیے قابل احترام ہیں اور کسی بھی ملک کے خلاف جارحیت پوری امت کے خلاف اقدام تصور کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ دشمن قوتوں سے دوری اختیار کرنا وقت کا تقاضا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان مضبوط ہوگا تو عالم اسلام بھی مضبوط ہوگا اور کسی بھی دشمن کو یہ اجازت نہیں دی جائے گی کہ وہ اسلامی ممالک کی خودمختاری کو نقصان پہنچائے۔