مشرق وسطیٰ جنگ،ایشیا و یورپ کے توانائی درآمد کرنے والے بڑے ممالک ایندھن اور پیداواری لاگت میں اضافے کا سب سے زیادہ بوجھ اٹھا رہے ہیں،آئی ایم ایف

مشرق وسطیٰ جنگ،ایشیا و یورپ کے توانائی درآمد کرنے والے بڑے ممالک ایندھن اور پیداواری لاگت میں اضافے کا سب سے زیادہ بوجھ اٹھا رہے ہیں،آئی ایم ایف

اسلام آباد۔1اپریل (اے پی پی):بین الاقوامی مالیاتی فنڈ(آئی ایم ایف) نے کہاہے کہ مشرق وسطیٰ کے جنگ کی وجہ سے ایشیا اور یورپ کے توانائی درآمد کرنے والے بڑے ممالک ایندھن اور پیداواری لاگت میں اضافے کا سب سے زیادہ بوجھ اٹھا رہے ہیں،سپلائی چین متاثرہونے سے معاشی طورپر کمزور طبقات کو سب سے بڑا بوجھ برداشت کرناپڑرہاہے۔یہ بات بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کی جانب سے جاری رپورٹ میں کہی گئی ہے ،یہ رپورٹ آئی ایم ایف کے پانچ ذیلی ڈیپارٹمنٹس کے ڈائریکٹروں نے مرتب کی ہے جس میں مشرق وسطیٰ کی صورتحال اوراس کے عالمی معیشت پراثرات کاتفصیلی احاطہ کیاگیاہے۔رپورٹ کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ خطے اور اس سے باہر لوگوں کی زندگیوں اور روزگار کو متاثر کر رہی ہے، اس کے ساتھ ساتھ یہ ان بہت سی معیشتوں کے امکانات کو بھی کمزور کر رہی ہے جنہوں نے حال ہی میں پچھلے بحرانوں سے پائیدار بحالی کے آثار دکھانا شروع کیے تھے، توانائی درآمد کرنے والے ممالک برآمد کنندگان کے مقابلے میں زیادہ متاثر ہو رہے ہیں، کم ترقی یافتہ ممالک ترقی یافتہ ممالک کے مقابلے میں زیادہ کمزور ہیں اور وہ ممالک جن کے پاس محدود مالی ذخائر ہیں، ان پر دباؤ ان ممالک سے زیادہ ہے جن کے پاس وافر ذخائر موجود ہیں۔

ایشیا اور یورپ کے بڑے توانائی درآمد کرنے والے ممالک ایندھن اور پیداواری لاگت میں اضافے کا سب سے زیادہ بوجھ اٹھا رہے ہیں۔ عالمی تیل کا تقریباً 25 سے 30 فیصد اور مائع قدرتی گیس کا 20 فیصد حصہ آبنائے ہرمز سے گزرتا ہے، جو نہ صرف ایشیا بلکہ یورپ کے کچھ حصوں کی طلب کو بھی پورا کرتا ہے۔ افریقہ اور ایشیا کی وہ معیشتیں جو تیل کی درآمدات پر بہت زیادہ انحصار کرتی ہیں، اب بڑھتی ہوئی قیمتوں اور ضرورت کے مطابق سپلائی حاصل کرنے میں مشکلات کا سامنا کر رہی ہیں۔مشرقِ وسطیٰ، افریقہ، ایشیاوبحرالکاہل اور لاطینی امریکہ کے بعض حصے خوراک اور کھاد کی قیمتوں میں اضافے اور مالیاتی حالات کے سخت ہونے کے اضافی دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔ کم آمدنی والے ممالک خاص طور پر غذائی عدم تحفظ کے خطرے سے دوچار ہیں اوران میں سے بعض ممالک کو مزید بیرونی امداد کی ضرورت پڑ سکتی ہے ،بلاگ کے مطابق طویل جنگ سے توانائی کی قیمتیں بلندرہ سکتی ہیں جس سے درآمدات پر انحصار کرنے والے ممالک کو شدید دباؤ کاسامناہوگا، ایشیا کی بڑی صنعتی معیشتوں میں ایندھن اور بجلی کے بڑھتے ہوئے بل پیداوار کی لاگت میں اضافہ کر رہے ہیں جس سے لوگوں کی قوتِ خریدکم ہورہی ہے، بعض ممالک میں ادائیگیوں کے توازن پر دباؤ پہلے ہی کرنسیوں کو متاثر کر رہا ہے۔

رپورٹ میں سپلائی چین کے متاثرہونے کاتفصیل سے احاطہ کرتے ہوئے بتایاگیاہے کہ ٹینکرز اور کنٹینر جہازوں کے راستے بدلنے سے فریٹ اور انشورنس کے اخراجات بڑھ رہے ہیں اور ترسیل کا وقت طویل ہورہاہے ۔ خلیج کے اہم ہوائی اڈوں کے ارد گرد فضائی ٹریفک میں رکاوٹیں عالمی سیاحت کو متاثر اور تجارت کو مزید پیچیدہ بنا رہی ہیں۔اجناس کی قیمتوں میں اضافے کے علاوہ ممالک، کمپنیاں اور صارفین پہلے ہی سپلائی چین کی پیچیدگیوں کے اثرات کا سامنا کر رہے ہیں۔ کھاد کی ترسیل، جس کا تقریباً ایک تہائی حصہ آبنائے ہرمز سے گزرتا ہے، متاثر ہونے کے باعث خوراک کی قیمتوں کے بارے میں خدشات بڑھ رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق اس بحران میں سب سے زیادہ معاشی طورپرکمزور طبقات کو بڑا بوجھ برداشت کرنا پڑے گا۔ کم آمدنی والے ممالک میں لوگ قیمتوں میں اضافے سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں کیونکہ ان کی اوسط کھپت کا تقریباً 36 فیصد خوراک پر خرچ ہوتا ہے، جبکہ ابھرتی ہوئی معیشتوں میں یہ 20 فیصد اور ترقی یافتہ معیشتوں میں 9 فیصد ہے۔

رپورٹ کے مطابق توانائی اور خوراک کی بلند قیمتیں برقرار رہنے سے دنیا بھر میں افراطِ زر میں مزیداضافہ ہوگا کیونکہ تاریخی طور پر تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ افراطِ زر کو بڑھاتا اور معاشی ترقی کو کم کرتا رہا ہے۔ اس صورتحال میں بہت سے ممالک جو ابھی حال ہی میں افراطِ زر کو ہدف کے قریب لانے میں کامیاب ہوئے تھے اور خاص طور پر وہ ممالک جہاں افراطِ زر پہلے ہی زیادہ ہے، دوبارہ قیمتوں کے دباؤ کے دور کا سامنا کر سکتے ہیں۔رپورٹ کے مطابق جنگ نے مالیاتی منڈیوں کو بھی غیر مستحکم کر دیا ہے۔ عالمی اسٹاک مارکیٹوں میں کمی آئی ہے، بڑے ترقی یافتہ اور کئی ابھرتے ہوئے ممالک میں مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ میں اضافہ ہوا ہے۔ اگرچہ یہ گراوٹ ماضی کے بڑے عالمی بحرانوں کے مقابلے میں ابھی محدود ہے، تاہم اس نے دنیا بھر میں مالیاتی حالات کو سخت کر دیا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ اور دیگر علاقوں میں قرض کی بلند سطح اور سخت مالیاتی حالات قرض لینے کی لاگت کو مزید بڑھا سکتے ہیں۔ رپورٹ میں ممالک کومعاشی جھٹکوں کاسامناکرنے اور معاشی مضبوطی برقرار رکھنے کے لیے ممالک مناسب پالیسیاں اپنانے، اقدامات کو ہر ملک کی مخصوص ضروریات کے مطابق ترتیب دینے محدود ذخائر اور کم مالی گنجائش والے ممالک کو خاص طور پر محتاط رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔