معاشی استحکام، معیشت کی مضبوطی اورملک کو پائیدار ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کیلئے حکومت کاروباری برادری کے ساتھ قریبی تعاون جاری رکھے گی، وزیرخزانہ محمد اورنگزیب

معاشی استحکام، معیشت کی مضبوطی اورملک کو پائیدار ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کیلئے حکومت کاروباری برادری کے ساتھ قریبی تعاون جاری رکھے گی، وزیرخزانہ محمد اورنگزیب

اسلام آباد۔9اپریل (اے پی پی):وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہاہے کہ معاشی استحکام، معیشت کی مضبوطی اورملک کو پائیدار ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کیلئے حکومت کاروباری برادری کے ساتھ قریبی تعاون جاری رکھے گی،حکومت معاشی لچک کو برقرار رکھنے کے ساتھ ساتھ جامع اور دیرپا بحالی کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے یہ بات جمعرات کویہاں ملک بھر کے چیمبرز آف کامرس اور کاروباری اداروں کے صدور و سینئر عہدیداران کے ساتھ ورچوئل اجلاس میں کہی۔ وزیرخزانہ نے اجلاس کی صدارت کی جس میں موجودہ معاشی صورتحال، آئندہ بجٹ کی ترجیحات اور معاشی بحالی اور نمو کو مضبوط بنانے کے امکانات پر تفصیلی تبادلہ خیال ہوا۔ تقریباً 90 منٹ تک جاری رہنے والے اس اجلاس میں وزیر مملکت خزانہ بلال اظہر کیانی کے علاوہ وزارت خزانہ، ریونیو ڈویژن اور ٹیکس پالیسی آفس کے سینئر حکام نے بھی شرکت کی۔

وزیر خزانہ نے شرکا ء کا خیرمقدم کیا اور حکومت کے ساتھ ان کے مسلسل تعاون اور رابطے کو سراہا۔ انہوں نے بدلتی ہوئی علاقائی صورتحال کے تناظر میں عالمی سطح پر پاکستان کی بڑھتی ہوئی اہمیت پرروشنی ڈالی اور کاروباری برادری کے ساتھ باقاعدہ اور منظم مکالمے کی اہمیت پر زور دیا۔ وزیرخزانہ نے کہا کہ یہ ملاقات خاص طور پر اس وقت نہایت بروقت ہے جب وہ بین الاقوامی مالیاتی اداروں اور عالمی شراکت داروں کے ساتھ اہم ملاقاتوں کی تیاری کر رہے ہیں اور اس سلسلے میں اہم معاشی شراکت داروں سے براہ راست آراء حاصل کرنا ضروری ہے۔وزیر خزانہ نے واضح کیا کہ اس اجلاس کا مقصد صرف ٹیکسوں اور آئندہ بجٹ پر گفتگو تک محدود نہیں بلکہ اس کا محور عملی اور مستقبل پر مبنی تجاویز کی نشاندہی بھی ہے تاکہ موجودہ مواقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے تجارت کو فروغ دیا جا سکے، سرمایہ کاری کو راغب کیا جا سکے اور پائیدار معاشی ترقی کو یقینی بنایا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے حالیہ مشکل مرحلے میں نسبتاً مضبوط معاشی استحکام کی بنیاد پر قدم رکھا جسے مالیاتی نظم و ضبط اور مضبوط بیرونی ذخائر کی حمایت حاصل رہی، حکومت معاشی لچک کو برقرار رکھنے کے ساتھ ساتھ جامع اور دیرپا بحالی کے لیے پرعزم ہے۔ وزیر خزانہ نے مالیاتی نظم و نسق میں بہتری، بیرونی ذمہ داریوں کی بروقت ادائیگی اورمعاشی طورپر کمزور طبقات کے لیے ہدف پرمبنی امدادی اقدامات پربھی روشنی ڈالی اور زور دیا کہ معاشی بحالی بنیادی معاشی اشاریوں اور ادارہ جاتی نظم و ضبط کو مضبوط بنانے سے ممکن ہوئی ہے جس میں نجی شعبے کی شراکت داری کلیدی حیثیت رکھتی ہے۔

انہوں نے شرکا کو ترغیب دی کہ وہ ابھرتے ہوئے مواقع خصوصاً تجارت میں سہولت کاری، لاجسٹکس اور علاقائی روابط کے شعبوں سے فائدہ اٹھانے کے لیے قابل عمل تجاویز پیش کریں جہاں پاکستان کے ٹرانس شپمنٹ اور سرمایہ کاری کے مرکز کے طور پر ابھرتے امکانات نمایاں ہیں۔وزیر خزانہ کے خطاب کے بعد شرکا کو اظہار خیال کا موقع دیا گیا جہاں انہوں نے معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینے اور مسابقتی صلاحیت بڑھانے کے لیے مختلف تجاویز اور سفارشات پیش کیں۔ گفتگو کا محور کاروباری ماحول کو بہتر بنانے، برآمدات میں سہولت فراہم کرنے، پیداواری صلاحیت کو مضبوط بنانے اور پالیسی فریم ورک کو علاقائی معیارات کے مطابق ڈھالنے پر رہا۔

شرکا نے آپریشنل رکاوٹوں میں کمی، بنیادی ڈھانچے کے موثر استعمال اور معیشت کے اہم شعبوں میں سرمایہ کاری کے فروغ کی ضرورت پر زور دیا۔شرکا نے اس امر پر بھی زور دیا کہ مالیاتی بہائو کو بہتر بنایا جائے، برآمدات پر مبنی صنعتوں کی معاونت کی جائے اور نئی منڈیوں کی تلاش کے ذریعے پاکستان کے عالمی تجارتی دائرہ کار کو وسعت دی جائے۔

تجاویز میں پالیسی کے تسلسل اور پیش گوئی، بجٹ سازی کے عمل میں مشاورتی انداز اپنانے اور بنیادی ڈھانچے، صنعت اور ابھرتے ہوئے شعبوں میں سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے ہدفی سہولت کاری کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا۔ فریقین نے مشترکہ عزم کی عکاسی کی کہ رسمی معیشت کو مضبوط بنایا جائے، جدت اور ٹیکنالوجی کے استعمال کو فروغ دیا جائے اور مربوط کوششوں کے ذریعے طویل المدتی معاشی ترقی کے امکانات کو بروئے کار لایا جائے۔ وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی نے کاروباری برادری کی تعمیری تجاویز کو سراہا اور حکومت کی جانب سے تاجروں اورسرمایہ کاروں سے مسلسل رابطے برقراررکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ پیش کی گئی متعدد تجاویز حکومت کے اصلاحاتی ایجنڈے سے ہم آہنگ ہیں اور اس بات پر زور دیا کہ دستیاب مالی گنجائش کے اندر ایسے اقدامات کو ترجیح دی جائے جو زیادہ سے زیادہ معاشی اثرات مرتب کریں اور عملی و قابل نفاذ حل فراہم کریں۔ٹیکس پالیسی آفس اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے سینئر حکام نے بھی شرکا ء کو جاری مشاورتی عمل پر بریفنگ دی اور یقین دہانی کرائی کہ متوازن اور موثر پالیسی اقدامات کیلئے چیمبرز کی جانب سے موصول ہونے والی تجاویز کا بغور جائزہ لیا جا رہا ہے۔ انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ تمام شراکت داروں کے ساتھ مسلسل رابطہ ایک موثر اور ترقی پسندانہ بجٹ کی تشکیل میں مرکزی کردار ادا کرتا رہے گا۔

وزیر خزانہ نے شرکاء کا ان کی قیمتی آراء اور تجاویز پر شکریہ ادا کیا اور اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت کاروباری برادری کے ساتھ قریبی تعاون جاری رکھے گی تاکہ معیشت کو استحکام، مضبوطی اور پائیدار ترقی کی راہ پر گامزن کیا جا سکے۔ انہوں نے زور دیا کہ موجودہ مرحلہ معاشی اصلاحات کو آگے بڑھانے اور نئے مواقع سے فائدہ اٹھانے کے لیے نہایت اہم ہے اور ان مقاصد کے حصول کے لیے سرکاری و نجی شعبوں کے درمیان مسلسل تعاون ناگزیر ہوگا۔

اجلاس میں صدر ایف پی سی سی آئی عاطف اکرام شیخ ، نائب صدر ایف پی سی سی آئی ذکی اعجاز، کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سابق صدر جاوید بلوانی، صدر کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری ریحان حنیف، صدر لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری فہیم سہگل، صدر راولپنڈی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری عثمان شوکت، گروپ لیڈر راولپنڈی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری سہیل الطاف، صدر سیالکوٹ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری احتشام مظہر، صدر فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری فاروق یوسف شیخ،

صدر کوئٹہ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری محمد ایوب، صدر سرحد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری جنید الطاف، گوجرانوالہ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری علی ہمایوں بٹ، گجرات چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری احمد حسن اور صدر اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری سردار طاہر نے شرکت کی ۔ شرکا ء نے فعال انداز میں گفتگو میں حصہ لیا اور پاکستان کے معاشی مستقبل کو مضبوط بنانے سے متعلق اپنی آراء پیش کیں۔