کسٹمز اتھارٹیز اور پورٹ کنٹرول یونٹس کے علاقائی نیٹ ورک آئرین کی آٹھویں ایکسپرٹ لیول میٹنگ کا انعقاد

کسٹمز اتھارٹیز اور پورٹ کنٹرول یونٹس کے علاقائی نیٹ ورک آئرین کی آٹھویں ایکسپرٹ لیول میٹنگ کا انعقاد

اسلام آباد۔10اپریل (اے پی پی):اقوامِ متحدہ دفتر برائے انسدادِ منشیات و جرائم کے کنٹری آفس پاکستان نے پاکستان کسٹمز اور انٹی نارکوٹکس فورس (اے این ایف) کے اشتراک سے کراچی میں کسٹمز اتھارٹیز اور پورٹ کنٹرول یونٹس کے علاقائی نیٹ ورک آئرین کی آٹھویں ایکسپرٹ لیول میٹنگ کا انعقاد کیا ۔ جمعہ کو جاری پریس ریلیز کے مطابق یہ اجلاس گلوبل پسنجر اینڈ کارگو کنٹرول پروگرام (پی سی سی پی) کے تحت ہونے والی سرگرمیوں میں ایک اہم سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے، چار روزہ اجلاس کے دوران انٹیلی جنس معلومات کا تبادلہ بڑھانے، خطرات کو پیش نظر رکھتے ہوئے باہدف کارروائیوں میں بہتری لانے، سمگلنگ کے نئے خطرات کا ازالہ کرنے اور علاقائی سطح پر عملی اشتراک کو مزید بہتر بنانے سمیت مختلف امور زیربحث آئے۔

غیرقانونی سمگلنگ اور بین البراعظمی منظم جرائم کے خلاف تعاون مستحکم بنانے کے لئے اجلاس میں آئرین کے آٹھ رکن ممالک کے قانون نافذ کرنے والے اداروں، کسٹمز حکام اور بین الاقوامی ماہرین نے شرکت کی۔ اس موقع پر ممبر کسٹمز (آپریشنز) پاکستان کسٹمز سروس سید شکیل احمد نے کہا کہ یو این او ڈی سی اور ورلڈ کسٹمز آرگنائزیشن کی زیر سرپرستی آٹھویں آئرین ریجنل ایکسپرٹس میٹنگ کی میزبانی پاکستان کے لئے اعزاز اور مسرت کا باعث ہے اور پاکستان میں منعقد کئے جانے والے پہلے ایکسپرٹ لیول آئرین فورم کے طور پر یہ اجلاس خصوصی اہمیت کا حامل ہے۔

انہوں نےکہا کہ یہ اجلاس اس بناء پر بھی اہم ہے کہ اس کی بدولت علاقائی اور بین الاقوامی پارٹنرز باہمی تعاون، اعتماد اور آپریشنل رابطوں کو مستحکم بنانے کے لئے یکجا ہو رہے ہیں۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان خطے میں محفوظ اور قانونی تجارت کو فروغ دینے، انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر بارڈ مینجمنٹ بہتر بنانے اور سمگلنگ کے نئے خطرات پر قابو پانے کے لئے یو این او ڈی سی، ڈبلیو سی او اور رکن ممالک کے ساتھ مل کر کام کرنے کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ یو این او ڈی سی کے کریمنل جسٹس ایڈوائزر ارسلان ملک نے باہمی روابط کی بنیاد پر فوری اقدامات کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ آپس میں جُڑی آج کی دنیا میں منظم جرائم محض سرحدوں کے اندر تک محدود نہیں رہے جس کے پیش نظر تعاون کا استحکام اور انٹیلی جنس معلومات کا باہمی تبادلہ ایک لازمی ضرورت بن چکا ہے۔

ورلڈ کسٹمز آرگنائزیشن کے بین الاقوامی ماہر سویتلان ساووف نے سکیورٹی اور تجارت کے درمیان توازن کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ کسٹمز کے ادارے گلوبل سپلائی چین کو محفوظ بنانے کے ساتھ ساتھ جائز قانونی تجارت کے بہاؤ کو یقینی بنانے میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔ پاکستان کا شمار ان ابتدائی ممالک میں ہوتا ہے جو 2007 سے اس پروگرام کا حصہ ہیں۔ پی سی سی پی کے سلسلے میں علاقائی تعاون بڑھانے میں پاکستان ایک مرکزی کردار ادا کر رہا ہے۔ پاکستان نے 2008 میں کراچی میں اپنا پہلا پورٹ کنٹرول یونٹ قائم کیا جو علاقائی سطح پر اہم تربیتی مرکز کا کردار ادا کر رہا ہے۔ تربیتی سرگرمیوں کے ذریعے استعداد میں بہتری کے ساتھ ساتھ پاکستان علاقائی تعاون کی سرگرمیوں میں بھی پیش پیش ہے۔

2024 میں پاکستان نے سنتھیٹک منشیات کے خلاف آئرین آپریشن کی کوآرڈینیشن میں مرکزی کردار ادا کیا اور منشیات کے خطرات سے نمٹنے کے لئے اپنی قائدانہ صلاحیتوں کا بھرپور اظہار کیا۔ پریس ریلیز کے مطابق آئرین نیٹ ورک کا قیام 2019 میں رکن ممالک کے درمیان ایک مفاہمتی یادداشت کے ذریعے عمل میں آیا۔ اس نیٹ ورک کے ذریعے دنیا کے مختلف خطوں کے درمیان سمگلنگ سے نمٹنے کے لئے براہِ راست بنیاد پر معلومات کا تبادلہ کیا جاتا ہے۔

36 پورٹ اینڈ ایئرپورٹ کنٹرول یونٹس سمیت 9 ممالک میں ٹارگٹنگ سنٹرز اور 160 سے زائد تربیت یافتہ افسران اس نیٹ ورک کے تحت کام کر رہے ہیں اور غیرقانونی تجارت کے خلاف اقدامات کو مربوط اور مستحکم بنانے کے لئے سرگرم عمل ہیں۔ یو این او ڈی سی، پی سی سی پی پر ورلڈ کسٹمز آرگنائزیشن، انٹرنیشنل سِوِل ایوی ایشن آرگنائزیشن اور انٹرپول کے اشتراک سے کام کر رہا ہے۔ پی سی سی پی کے ذریعے رکن ممالک انٹیلی جنس معلومات کا تبادلہ، ہائی رِسک شپمنٹس کی نشاندہی اور منشیات، پری کرسر کیمیکلز اور دیگر ممنوعہ اشیاء سمیت غیرقانونی اشیاء کے خلاف کارروائیاں کرتے ہیں اور قانونی حیثیت کی حامل تجارتی و ٹرانسپورٹ راہداریوں کے غلط استعمال کی روک تھام کے لئے سرگرمِ عمل ہیں اور متعلقہ اداروں کے درمیان تعاون کو مستحکم بناتے ہیں۔

پاکستان میں ان کاوشوں کی بدولت نفاذِ قانون کے شعبے میں نمایاں بہتری آئی ہے جن کے نتیجے میں 2024 میں 1.7 ٹن میتھ ایمفیٹامائن، 2025 میں 1.3 ٹن میتھ ایمفیٹامائن اور 2.6 ٹن افیون کے ساتھ ساتھ 14 ٹن سے زائد سرخ فاسفورس، تقریباً 100 کلوگرام کوکین، اور کئی ٹن نشہ آور مواد کو بیرون ملک سمگلنگ کے دوران قبضے میں لیا گیا۔ آٹھویں ایکسپرٹ لیول میٹنگ میں سمگلنگ کے نئے رجحانات، نفاذِ قانون اور تجارت کے درمیان توازن اور بارڈر رِسک مینجمنٹ میں ڈیجیٹل اور آرٹیفشل انٹیلی جنس کے ذرائع کے استعمال سمیت متعدد اہم موضوعات کو زیرِبحث لایا گیا۔ پروگرام میں مختلف ورکشاپس اور آپریشنل سرگرمیوں کے مطالعہ کے لئے کراچی کی بندرگاہ کا دورہ بھی شامل تھا۔

اجلاس میں رکن ممالک نے اپنے اس مشترکہ عزم کا اعادہ کیا کہ باہمی تعاون کو بہتر اور بارڈر سکیورٹی کو مستحکم بنایا جائے گا اور منظم جرائم کے نیٹ ورکس سے نمٹنے کی کوششیں کی جائیں گی۔ عالمی تجارت اور جرائم کی بڑھتی ہوئی پیچیدگیاں بھی ایجنڈا میں شامل تھیں۔ گفتگو کے دوران سمگلنگ کے نئے رجحانات، علاقائی سطح کے خطرات، تجارت اور نفاذِ قانون کے درمیان توازن، خطرات سے نمٹنے کے لئے اے آئی کے استعمال اور ڈیجیٹلائزیشن، اور بارڈر کنٹرول کے لئے باہمی رابطوں کے استحکام اور ’ون سٹاپ انسپکشن‘ جیسے موضوعات پر تفصیلی تبادلہ خیالات کیا گیا جن کی روشنی میں ان عملی سرگرمیوں کو موزوں حکمتِ عملیوں کی شکل دینے پر کام کیا گیا۔