چینگدو، چین۔28مارچ (اے پی پی):پاکستان ریسرچ سینٹر فار اے کمیونٹی ود شیئرڈ فیوچر کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر خالد تیمور اکرم نے جنوبی ایشیا میں ماحولیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے علاقائی تعاون، پالیسی ہم آہنگی اور پائیدار ترقی کو ناگزیر قرار دیا ہے۔ چین کے شہر چینگدو میں 26 اور 27 مارچ کو منعقدہ فیوا ڈائیلاگ 2026 سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی خطے کے لیے ایک مشترکہ اور سنگین چیلنج ہے، جو معیشت، روزگار اور ماحولیاتی نظام کو متاثر کر رہا ہے۔ پریس ریلیز کے مطابق فیوا ڈائیلاگ کا مقصد جنوبی ایشیائی ممالک کے درمیان مکالمے اور تعاون کو فروغ دینا ہے۔ اس مکالمے کا آغاز 2024 میں پوکھرا میں ہونے والے پہلے اجلاس سے ہوا تھا جبکہ موجودہ اجلاس اس سلسلے کا دوسرا ایڈیشن ہے، جس کا موضوع ’’موسمیاتی تبدیلی اور طرز حکمرانی کے تناظر میں جنوبی ایشیا کی ترقی‘‘رکھا گیا۔ یہ مکالمہ سچوان یونیورسٹی کے چائنا سینٹر فار ساؤتھ ایشیا اسٹڈیز اور تریبھون یونیورسٹی کے اشتراک سے منعقد کیا گیا، جس میں ماہرین، اسکالرز اور پالیسی سازوں نے شرکت کی۔ اس مکالمے کا مقصد ماہرین، اسکالرز اور پالیسی سازوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنا، فکری وسائل کو بروئے کار لانا، باہمی سمجھ بوجھ کو فروغ دینا اور بدلتے ہوئے عالمی و ماحولیاتی چیلنجز کے تناظر میں جنوبی ایشیا میں پائیدار ترقی کو آگے بڑھانا تھا۔فیوَا ڈائیلاگ 2026 کو تین موضوعاتی فورمز میں تقسیم کیا گیا تھا۔ پہلا موضوع چیلنجز سے نمٹنے کے لیے تعاون—جنوبی ایشیا میں علاقائی اقتصادی انضمام کو فروغ دینا تھا ۔
اس سیشن میں اس بات پر غور کیا گیا کہ جنوبی ایشیائی ممالک کس طرح اقتصادی تعاون کو مضبوط بنا سکتے ہیں، علاقائی روابط کو بہتر کر سکتے ہیں اور پالیسی ہم آہنگی کے ذریعے ایک مضبوط اور مربوط علاقائی معیشت تشکیل دے سکتے ہیں، خصوصاً موسمیاتی تبدیلی کے تناظر میں۔دوسراموضوع ترقی کے لیے سبز بااختیاری—صاف توانائی، نئی توانائی اور نئی صنعتی زنجیریں تھا ۔ اس میں قابل تجدید توانائی کی جانب منتقلی، گرین ٹیکنالوجیز کے فروغ اور پائیدار صنعتی ویلیو چینز کی ترقی پر توجہ دی گئی۔تیسرا موضوع پائیدار ترقی کا حصول—روایتی طرز زندگی میں تبدیلی تھا ۔ اس فورم میں ماحول دوست رویوں کے فروغ، کم کاربن طرز زندگی کو اپنانے اور سماجی و ثقافتی اقدار میں پائیداری کو شامل کرنے کی اہمیت اجاگر کی گئی۔خالد تیمور اکرم نے پہلے موضوع کے تحت کلیدی خطاب کیا جس کا عنوان ’’چیلنجز سے نمٹنے کے لیے تعاون—جنوبی ایشیا میں علاقائی اقتصادی انضمام کو فروغ دینا‘‘ تھا۔ اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی جنوبی ایشیا کے لیے ایک مشترکہ اور سنگین چیلنج ہے جو خطے کی معیشتوں، روزگار اور ماحولیاتی نظام کو متاثر کر رہا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ چونکہ یہ مسائل سرحدوں سے ماورا ہیں، اس لیے ان کے حل بھی علاقائی تعاون کے ذریعے ہی ممکن ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ موسمیاتی لحاظ سے مضبوط علاقائی معیشت کے قیام کے لیے انفراسٹرکچر، قابل تجدید توانائی، پائیدار زراعت اور علاقائی تجارت کے شعبوں میں مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ پالیسی ہم آہنگی، علم کے تبادلے اور مشترکہ ڈیزاسٹر مینجمنٹ نظام کے قیام کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا۔انہوں نے تعلیمی اداروں، کاروباری شعبے، سول سوسائٹی اور نوجوانوں کے کردار کو بھی اجاگر کیا اور کہا کہ علاقائی تعاون کے ذریعے مشترکہ چیلنجز کو سبز ترقی، معاشی استحکام اور طویل مدتی پائیداری کے مواقع میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔اس ڈائیلاگ میں مختلف اہم شخصیات نے شرکت کی جن میں سچوان یونیورسٹی اور تریبھون یونیورسٹی کے اعلیٰ عہدیداران، چین اور نیپال کے سفارتی نمائندگان اور دیگر ماہرین شامل تھے۔ جنوبی ایشیا کے مختلف ممالک بشمول پاکستان، نیپال، بھوٹان، بھارت، مالدیپ اور سری لنکا سے تقریباً 27 مقررین نے اس مکالمے میں حصہ لیا۔فیوَا ڈائیلاگ 2026 نے اعلیٰ سطحی مکالمے، علمی تبادلے اور پالیسی مباحثوں کے لیے ایک مؤثر پلیٹ فارم فراہم کیا، جس نے جنوبی ایشیا کے لیے ایک پائیدار، باہمی تعاون پر مبنی اور مضبوط مستقبل کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا۔