​اسلام آباد: عالمی سفارت کاری کا نیا محور اور پاکستان کی تاریخی تزویراتی فتح

​اسلام آباد: عالمی سفارت کاری کا نیا محور اور پاکستان کی تاریخی تزویراتی فتح

اسلام آباد:(تیز خبر نیوز ، نمائندہ ) حالیہ دنوں میں پاکستان کے دارالحکومت کی فضاؤں نے وہ منظر دیکھا جو عشروں سے عالمی سیاست کا خواب تھا۔ ایران اور امریکہ، جو ایک دوسرے کے سخت ترین حریف ملامت کیے جاتے ہیں، ان کے اعلیٰ سطح کے وفود کا اسلام آباد میں بیٹھنا اور مذاکرات کی میز سجانا کوئی معمولی واقعہ نہیں ہے۔ اگرچہ یہ مذاکرات بظاہر کسی تحریری معاہدے یا باقاعدہ اعلان پر ختم نہیں ہوئے، لیکن سفارت کاری کی زبان سمجھنے والے جانتے ہیں کہ “نتیجہ نہ نکلنا بھی بسا اوقات ایک بڑا نتیجہ ہوتا ہے”۔
​اس پورے عمل کا سہرا اور تمام تر کریڈٹ بلا شرکتِ غیرے فیلڈ مارشل عاصم منیر، وزیراعظم شہباز شریف اور ان کی انتھک ٹیم کو جاتا ہے۔
​فیلڈ مارشل عاصم منیر: خاموش سفارت کاری کے معمار
​اس سہ فریقی بیٹھک کے پیچھے اصل محرک فیلڈ مارشل عاصم منیر کی وہ “اسٹریٹجک بصیرت” تھی جس نے پاکستان کو ایک “بفر اسٹیٹ” سے نکال کر ایک “ثالثی ریاست” (Mediator State) کے مقام پر کھڑا کر دیا۔ انہوں نے دنیا کو باور کرایا کہ پاکستان کی عسکری قوت صرف دفاعِ وطن کے لیے نہیں، بلکہ خطے میں امن کے قیام کے لیے بھی ایک کلیدی ضمانت ہے۔
​ان کی قیادت میں پاکستانی سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ نے تہران اور واشنگٹن دونوں کو وہ “اعتماد” فراہم کیا جس کی بنیاد پر وہ ایک دوسرے کے سامنے بیٹھنے پر آمادہ ہوئے۔ یہ ان کی شخصیت کا رعب اور پیشہ ورانہ مہارت تھی کہ دونوں طاقتوں نے اسلام آباد کی میزبانی پر سرِ تسلیم خم کیا۔
​وزیراعظم شہباز شریف اور حکومتی ٹیم: سفارتی مہارت کا ثبوت
​سیاسی محاذ پر وزیراعظم شہباز شریف اور ان کی ٹیم نے جس تندہی سے اس ایونٹ کا انتظام کیا، وہ قابلِ دید تھا۔ وزیراعظم نے اپنی “پاکستان فرسٹ” پالیسی کے تحت وزارتِ خارجہ کو متحرک رکھا اور یہ ثابت کیا کہ پاکستان اب کسی عالمی بلاک کا حصہ بننے کے بجائے سب کے لیے ایک “پل” کا کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔ ان کی معاشی اور سفارتی ٹیم نے پسِ پردہ رہ کر جس طرح لاجسٹکس اور پروٹوکول کو سنبھالا، اس نے عالمی سطح پر پاکستان کے وقار میں بے پناہ اضافہ کیا ہے۔
​خاموشی جو سب کچھ بیان کر گئی: باڈی لینگویج کا تجزیہ
​مذاکرات کے بعد میڈیا کے سامنے کوئی باضابطہ مشترکہ اعلامیہ نہ آنا دراصل اس حساسیت کا تقاضا تھا جو ان دو ممالک کے تعلقات میں پایا جاتا ہے۔ تاہم، رخصتی کے مناظر نے اصل کہانی سنا دی:
​امریکی نائب صدر ڈی جے وائنس (DJ Vines): امریکی نائب صدر جب اسلام آباد سے روانہ ہو رہے تھے، تو ان کے چہرے کے تاثرات انتہائی مطمئن تھے۔ ان کی “بند مٹھی” اور پر اعتماد چال اس بات کا واضح اشارہ تھی کہ وہ یہاں سے وہ “گُر” یا وہ “یقین دہانی” حاصل کرنے میں کامیاب رہے ہیں جس کے لیے واشنگٹن بے چین تھا۔ ان کا یہ اطمینان پاکستان کی میزبانی اور ثالثی پر مہرِ تصدیق ہے۔
​ایرانی وفد کا تاثر: دوسری جانب ایرانی وفد بھی واپسی کے وقت نہایت پُرسکون اور مطمئن نظر آیا۔ اگرچہ انہوں نے میڈیا کو کوئی تفصیلات فراہم نہیں کیں، لیکن ان کی پُراسرار خاموشی اور پُراعتماد مسکراہٹ یہ بتا رہی تھی کہ تہران کو اسلام آباد کی جانب سے وہ ضمانتیں مل چکی ہیں جو ان کے قومی مفاد کے لیے ضروری تھیں۔
​پاکستان کے لیے حاصلِ کلام
​ان مذاکرات کا سب سے بڑا فاتح صرف اور صرف پاکستان ہے۔
​عالمی ساکھ: پاکستان نے ثابت کر دیا کہ وہ عالمی تنازعات کو حل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
​تزویراتی برتری: فیلڈ مارشل عاصم منیر کی مضبوط گرفت نے دنیا کو بتا دیا کہ پاکستان کے بغیر خطے کا کوئی بھی مسئلہ حل نہیں ہو سکتا۔
​سیاسی پختگی: شہباز شریف حکومت نے ثابت کیا کہ وہ پیچیدہ ترین عالمی صورتحال میں بھی پاکستان کے مفاد کا تحفظ کرنا جانتے ہیں۔
​حتمی رائے:
اسلام آباد کی زمین پر ہونے والی یہ مشق تاریخ میں سنہرے حروف سے لکھی جائے گی۔ نتیجہ چاہے جو بھی ہو، دنیا نے دیکھ لیا کہ جب فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیراعظم شہباز شریف کی ٹیم ایک پیج پر ہو، تو پاکستان ناممکن کو بھی ممکن بنا سکتا ہے۔ اس تاریخی کامیابی کا سارا کریڈٹ ان کی قیادت اور حب الوطنی کو جاتا ہے۔