اسلام آباد۔12اپریل (اے پی پی):پاکستان کارپٹ مینو فیکچررز اینڈ ایکسپورٹر زایسوسی ایشن( پی سی ایم ای اے ) نے وفاقی حکومت کو آئندہ مالی سال کے بجٹ کیلئے 6نکات پر مشتمل تجاویز اور مطالبات ارسال کرتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ حکومت ان تجاویز کو بجٹ دستاویز کا حصہ بنائے گی جس سے پاکستان کے ہاتھ سے بنے قالینوں سمیت دیگر صنعتوں کی برآمدات کو فروغ اور مجموعی معیشت کو مستحکم بنانے میں مدد ملے گی ۔ پی سی ایم ای اے کے قائمقام چیئرمین ریاض احمد کی جانب سے وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان کے نام تحریر کردہ خط میں آئندہ مالی سال کے بجٹ میں ود ہولڈنگ ٹیکس میں ترمیم کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ برآمد کنندگان کے لیے اس سے پہلے سیکشن 143(1)(b) کے تحت حتمی 1 فیصد فکسڈ ودہولڈنگ ٹیکس تھا تاہم بعد میں اسے نارمل ٹیکس رجیم میں تبدیل کر دیا گیا اور اب فکسڈ اسٹیٹس ختم ہونے کی وجہ سے برآمد کنندگان پر ایک فیصد ودہولڈنگ ٹیکس کے ساتھ اضافی ایک فیصد ایڈوانس ٹیکس بھی عائد ہو رہا ہے۔
انہوں نے تجویز پیش کی کہ ایک فیصد فکسڈ ٹیکس کی طرز پر 1.5 فیصد شرح سے حتمی فکسڈ ٹیکس بحال کیا جائے ۔ خط میں مزید کہا گیا کہ موجودہ حالات میں پاکستان میں بڑے کاروباری افراد پر 45 فیصد ٹیکس کی شرح عائد ہے جو انتہائی زیادہ ہے،تجویز ہے کہ اسے کم کر کے حتمی اور فائنل 35 فیصد کی شرح تک لایا جائے ۔ مزید برآں فلڈ سرچارج اور سپر ٹیکس کو مستقل طور پر ختم کیا جائے۔قائمقام چیئرمین ریاض احمد نے غیر ملکی نمائشوں کے لیے 80/20سبسڈی کی ای ڈی ایف سپورٹ کی بحالی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ہاتھ سے بنے قالینوں اور عمومی برآمد کنندگان کے لئے بین الاقوامی نمائشوں میں شرکت کی حوصلہ افزائی کے لیے اس سبسڈی کی بحالی نا گزیر ہے ۔انہوں نے مختلف سرکاری اداروں کے ٹیکسز کے انضمام کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ای او بی آئی، سوشل سکیورٹی ، لیبر ڈیپارٹمنٹ اور دیگرادارے ایک دوسرے سے ملتی جلتی سروسز فراہم کرتے ہیں اور برآمد کنندگان پر مختلف ٹیکسزعائد ہیں ۔ایسوسی ایشن نے مطالبہ کیا ہے کہ ایسے تمام ٹیکس وصول کرنے والے محکموں کو ایک ہی اتھارٹی میں ضم کر دیا جائے جو برآمد کنندگان سے صرف ایک بار ٹیکس وصول کریں تاکہ ٹیکس دہندگان کودہرے ٹیکسوں اور جرمانوں کے بوجھ سے چھٹکارا مل سکے ۔
پی سی ایم ای اے کے قائمقام چیئرمین ریاض احمد نے وزیر اعظم کے معاون خصوصی کو لکھے گئے خط میں مزید مطالبہ کیا کہ برآمدی صنعتوں کی سہولت کے لیے عمومی پالیسی کے طور پر پاک،افغان طورخم بارڈر پر ایک محفوظ اور درست بارڈر مینجمنٹ پالیسی اختیار کی جائے جس سے وہ صنعتیں جو پہلے ہموار ٹرانزٹ سے استفاد ہ کرتی تھیں وہ دوبارہ اسی طرز پر سہولت حاصل کر سکیں ۔ایسوسی ایشن کی جانب سے خط میں برآمدی صنعتوں کے لیے بجلی اور توانائی کے نرخوں میں ریلیف کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا گیا کہ بجلی کے موجودہ نرخ برآمدی صنعتوں کے لیے بشمول ہاتھ سے بنے قالینوں کی صنعت کیلئے انتہائی زیادہ ہیں۔ انہوں نے اپیل کی کہ توانائی کے اخراجات میں ریلیف دیا جائے کیونکہ موجودہ شرح عالمی منڈیوں میں مسابقت کو برقرار رکھنے کے لیے موزوں نہیں ہے۔ریاض احمد نے اس امید کا اظہار کیا کہ حکومت کی جانب سے ان تجاویز پر ہمدردانہ غور کیا جائے گا تاکہ ملک میں برآمدات کے فروغ اور معیشت کی بہتری کے لیے موثر اقدامات کیے جا سکیں۔