گاڑیوں کی قیمتوں میں اضافے کا رجحان صرف پاکستان تک محدود نہیں ، ڈاکٹر طارق فضل

گاڑیوں کی قیمتوں میں اضافے کا رجحان صرف پاکستان تک محدود نہیں ، ڈاکٹر طارق فضل

اسلام آباد۔7اپریل (اے پی پی):وزیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے سینیٹ کو بتایا ہے کہ گاڑیوں کی قیمتوں میں اضافے کا رجحان صرف پاکستان تک محدود نہیں بلکہ کورونا وائرس کے بعد آنے والی عالمی مہنگائی نے بھی اس میں اہم کردار ادا کیا ہے۔منگل کو وقفہ سوالات کے دوران ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پاکستان میں قیمتوں میں اضافے کی ایک بڑی وجہ روپے کی قدر میں کمی ہے۔انہوں نے وضاحت کی کہ مقامی طور پر تیار کی جانے والی گاڑیوں میں استعمال ہونے والے زیادہ تر پرزے درآمد کئے جاتے ہیں، اس لئے ڈالر کی قیمت میں اضافے سے پیداواری لاگت براہِ راست متاثر ہوئی ہے۔ڈاکٹر طارق فضل نے مزید کہا کہ متعدد بالواسطہ ٹیکسز بھی گاڑیوں کی قیمتوں میں اضافے کا سبب بن رہے ہیں کیونکہ ملک میں ٹیکس دہندگان کی تعداد محدود ہے، اگرچہ اسے بڑھانے کی کوششیں جاری ہیں۔انہوں نے کہا کہ حکومت نے مقامی آٹو صنعت کے فروغ اور ملکی پیداوار کو بڑھانے کے لئے گاڑیوں کی درآمد سے متعلق پالیسیز متعارف کرائی ہیں جن میں پانچ سال سے زیادہ پرانی گاڑیوں کی درآمد پر پابندی شامل ہے۔

وزیر پارلیمانی امور نے کہا کہ حکومت مقامی آٹو سیکٹر کو سہولت دینے کے ساتھ ساتھ وقت کے ساتھ قیمتوں میں کمی لانے کے لے بھی پرعزم ہے۔نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کے حوالے سے خدشات کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے اس تاثر کو مسترد کیا کہ خیبر پختونخوا یا بلوچستان میں ایسی گاڑیاں قانونی طور پر استعمال کی جا رہی ہیں۔انہوں نے واضح کیا کہ نان کسٹم پیڈ گاڑیاں پاکستان کے تمام صوبوں، آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان میں غیر قانونی ہیں۔ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا کہ کسٹمز انٹیلی جنس سمیت متعلقہ ادارے ایسی گاڑیوں کے خلاف کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں اور جہاں بھی ایسی گاڑیاں پائی جاتی ہیں انہیں ضبط کر لیا جاتا ہے۔انہوں نے زور دیا کہ کسی بھی صوبے میں ایسی گاڑیوں کی اجازت دینے کی کوئی سرکاری پالیسی موجود نہیں اور ان کا استعمال قانون کی خلاف ورزی ہے۔