اسلام آباد۔2اپریل (اے پی پی):ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ) نے ضروری ادویات کی قیمتوں میں اضافے سے متعلق زیرِ گردش خبروں کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے انہیں بے بنیاد اور گمراہ کن قرار دیا ہے۔ ڈریپ حکام کے مطابق ملک میں ضروری ادویات، بشمول انسولین اور دیگر جان بچانے والی ادویات کی قیمتوں میں کسی قسم کا حالیہ اضافہ نہیں کیا گیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ گزشتہ چند ماہ کے دوران بھی ضروری ادویات کی قیمتوں میں اضافے کی کوئی نئی منظوری نہیں دی گئی۔ڈریپ کا کہنا ہے کہ ضروری ادویات کی فہرست میں شامل ادویات کی قیمتوں میں فارماسیوٹیکل کمپنیاں از خود اضافہ نہیں کر سکتیں، کیونکہ اس حوالے سے ایک سخت اور مؤثر ریگولیٹری نظام نافذ ہے، جس کے تحت قیمتوں کا تعین اور نگرانی کی جاتی ہے۔انہوں نے کہا کہ اتھارٹی ملک بھر میں ادویات کی دستیابی کو یقینی بنانے کے لیے مسلسل نگرانی کر رہی ہے، جبکہ ادویات کی بلا تعطل فراہمی کے لیے بھی تمام ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
اس ضمن میں ڈریپ نے بطور ریگولیٹر فارماسیوٹیکل کمپنیوں کو دو اہم ہدایات (ایڈوائزریز) جاری کی ہیں، جن میں خام مال کے حصول کے لیے متعدد ذرائع اختیار کرنے اور مناسب ذخیرہ برقرار رکھنے کی تاکید کی گئی ہے، تاکہ عالمی سپلائی چین میں ممکنہ رکاوٹوں کے باعث ادویات کی قلت سے بچا جا سکے۔ڈریپ حکام کے مطابق پاکستان میں استعمال ہونے والی تقریباً 85 فیصد ادویات مقامی سطح پر تیار کی جاتی ہیں، اور موجودہ عالمی و علاقائی صورتحال کے باوجود سپلائی چین میں کسی بڑی رکاوٹ کا سامنا نہیں ہے۔ فارماسیوٹیکل صنعت کے نمائندگان کا بھی کہنا ہے کہ اس وقت ملک میں ادویات کی کسی فوری قلت کا خطرہ موجود نہیں اور بیشتر کمپنیوں کے پاس آئندہ چار سے چھ ماہ کے لیے خام مال اور تیار ادویات کا وافر ذخیرہ موجود ہے۔
اتھارٹی نے میڈیا ہاؤسز پر زور دیا ہے کہ ادویات کی قیمتوں یا دستیابی سے متعلق کسی بھی خبر کی اشاعت سے قبل ڈریپ سے تصدیق ضرور کی جائے، تاکہ عوام میں غیر ضروری تشویش اور بے چینی سے بچا جا سکے۔ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ عوام کو محفوظ، مؤثر اور معیاری ادویات کی بلا تعطل فراہمی ہر صورت یقینی بنائی جائے گی اور اس مقصد کے لیے تمام تر عملی اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔