اسلام آباد۔29مارچ (اے پی پی):ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ) نے ادویات کی قیمتوں میں اضافے سے متعلق خبروں کی سختی سے تردید کرتے ہوئے ادویات کی دستیابی پر اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ اتوار کو جاری کردہ ایک بیان میں اتھارٹی نے واضح کیا کہ ضروری ادویات، بشمول انسولین اور دیگر جان بچانے والی ادویات کی قیمتوں میں کوئی اضافہ نہیں کیا گیا۔ بیان میں وضاحت کرتے ہوئے کہا گیا کہ حالیہ خبروں میں جن قیمتوں کا ذکر کیا گیا ہے وہ دراصل زیادہ سے زیادہ ریٹیل قیمتیں (MRPs) ہیں جو پہلے سے ادویات کے پیکٹس اور بعض انسولین دینے والے آلات (جو 2024 یا 2025 میں تیار کیے گئے) پر درج ہیں مگر انہیں غلط طور پر قیمتوں میں حالیہ اضافے کے طور پر پیش کیا گیا۔
اتھارٹی نے اس بات کو دہرایا کہ حالیہ مہینوں میں ضروری ادویات کی قیمتوں میں کسی نئے اضافے کی منظوری نہیں دی گئی اور فارماسیوٹیکل کمپنیوں کو سختی سے پابند کیا گیا ہے کہ وہ نیشنل ایسینشل میڈیسنز لسٹ (NEML) میں شامل کسی بھی دوا کی قیمت میں یکطرفہ اضافہ نہ کریں۔ ڈریپ ادویات کی دستیابی کی مسلسل نگرانی کر رہی ہے اور اس نے ادویات اور طبی آلات کی سپلائی چین کا جامع جائزہ لیا ہے جسے آئندہ مہینوں کے لیے تسلی بخش قرار دیا گیا ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ پاکستان میں استعمال ہونے والی تقریباً 85 فیصد ادویات مقامی طور پر تیار کی جاتی ہیں اور موجودہ جغرافیائی کشیدگی بشمول مشرق وسطیٰ کے فضائی اور بحری راستوں میں رکاوٹوں سے متاثر نہیں ہوئیں۔
ڈریپ نے تمام مینوفیکچررز کو دو ہدایات بھی جاری کی ہیں جن میں ہنگامی منصوبہ بندی پر زور دیا گیا ہے اور کمپنیوں کو متعدد ذرائع سے سپلائی اور مختلف جغرافیائی راستے اختیار کرنے کی ہدایت دی گئی ہے تاکہ سپلائی چین کو مزید مضبوط بنایا جا سکے اور عارضی کارگو رکاوٹیں مستقبل میں قلت کا سبب نہ بنیں۔ اتھارٹی نے میڈیا پر بھی زور دیا کہ معلومات شائع کرنے سے پہلے ان کی تصدیق کی جائے تاکہ عوام میں جان بچانے والی ادویات کی دستیابی اور قیمتوں کے حوالے سے بلاوجہ خوف و ہراس نہ پھیلے۔ ڈریپ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ اپنی ریگولیٹری ذمہ داریوں کو پوری مستعدی سے نبھاتی رہے گی تاکہ پاکستان کے عوام کو محفوظ، مؤثر اور معیاری علاج معالجے کی اشیاء بلا تعطل دستیاب رہیں۔