بیرون ملک قید 21 ہزار پاکستانیوں کے قانونی تحفظ کے لئے ‘ڈٹینڈ ابراڈ’ رجسٹری کا اجراء،کینیڈین ہائی کمیشن اور جسٹس پروجیکٹ پاکستان کے اشتراک سے ڈیجیٹل پلیٹ فارم متعارف

بیرون ملک قید 21 ہزار پاکستانیوں کے قانونی تحفظ کے لئے ‘ڈٹینڈ ابراڈ’ رجسٹری کا اجراء،کینیڈین ہائی کمیشن اور جسٹس پروجیکٹ پاکستان کے اشتراک سے ڈیجیٹل پلیٹ فارم متعارف

اسلام آباد۔31مارچ (اے پی پی):بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے قانونی حقوق کے تحفظ اور انڈو پیسیفک خطے میں قید غیر ملکی شہریوں کو قونصلر رسائی فراہم کرنے کے لئے ایک جدید ڈیجیٹل پلیٹ فارم “ڈٹینڈ ابراڈ” (Detained Abroad) رجسٹری کا باضابطہ اجرا کر دیا گیا ہے۔ جسٹس پروجیکٹ پاکستان (جے پی پی) کی جانب سے کینیڈین ہائی کمیشن اور پارلیمنٹیرینز کمیشن برائے انسانی حقوق کے اشتراک سے شروع کی جانے والی یہ رجسٹری بیرون ملک قید 21 ہزار پاکستانیوں سمیت دیگر قومیتوں کے قانونی دفاع کو مضبوط بنانے میں کلیدی کردار ادا کرے گی۔اسلام آباد میں منعقدہ پروقار افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان میں کینیڈا کے ہائی کمشنر طارق علی خان نے کہا کہ کینیڈین حکومت اس منفرد رجسٹری کے قیام کی حمایت پر مسرور ہے جو اپنی نوعیت کا پہلا پلیٹ فارم ہے اور انڈو پیسیفک میں مقیم کینیڈین، پاکستانی اور دیگر شہریوں کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنائے گا۔

تقریب کے دوران سینیٹر ذیشان خانزادہ نے سمندر پار پاکستانیوں کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اوورسیز پاکستانی ملک کا قیمتی اثاثہ اور معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ محض ورکرز نہیں بلکہ ریاست کے معزز شہری ہیں اور دنیا بھر میں ان کے حقوق کا تحفظ حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ زبان کی رکاوٹ اور غیر ملکی قانونی نظام سے ناواقفیت کی وجہ سے ہمارے شہری مشکلات کا شکار ہوتے ہیں جس کے حل کے لئے یہ رجسٹری ایک سنگ میل ثابت ہوگی۔رکن قومی اسمبلی الیاس چوہدری، وزارتِ سمندر پار پاکستانیز کے سیکرٹری ندیم اسلم اور جے پی پی کے ایڈووکیسی لیڈ حارث زکی نے بھی تقریب سے خطاب کیا۔

حارث زکی نے بتایا کہ یہ پلیٹ فارم خاندانوں اور وکلاء کو متعلقہ ممالک کے سزائے موت کے قوانین، تشدد کے خلاف تحفظ اور وطن واپسی کے طریقہ کار سے متعلق مستند معلومات فراہم کرے گا۔مشاورتی سیشن میں پرتگال کے سفیر، یورپی یونین کی وفد کی فرسٹ سیکرٹری اُنا کیلی، اور آئرلینڈ کے سفارتخانہ کے حکام سمیت انسانی حقوق کے قومی اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی۔ مقررین نے تجویز دی کہ قانونی ماہرین، سفارت کاروں اور سول سوسائٹی کے درمیان مضبوط رابطہ کاری کے ذریعے قیدیوں کے خطرات کو کم کیا جا سکتا ہے۔

رپورٹ میں پیش کردہ مثبت اعداد و شمار کے مطابق یہ رجسٹری نہ صرف بیرون ملک قید پاکستانیوں کے لئے امید کی کرن ہے بلکہ بین الاقوامی انسانی حقوق کے مطابق قونصلر رسائی فراہم کرنے کے عمل کو شفاف بنائے گی۔ اس اقدام کا مقصد قانونی دفاعی حکمت عملیوں کو مربوط کرنا اور اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ کوئی بھی شہری قانونی معاونت سے محروم نہ رہے۔تقریب کے اختتام پر شرکاء نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ سمندر پار پاکستانیوں کو بروقت قونصلر امداد کی فراہمی اور قانونی دشواریوں کے خاتمے کے لئے وفاقی وزارتوں اور بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ تعاون کو مزید وسعت دی جائے گی۔