اسلام آباد۔1اپریل (اے پی پی):چیئرپرسن بینظیرانکم سپورٹ پروگرام سینیٹر روبینہ خالد اور سیکرٹری بی آئی ایس پی عامر علی احمد نے بی آئی ایس پی ہیڈکوارٹرز میں بدھ کو عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او)، ورلڈ فوڈ پروگرام (ڈبلیو ایف پی) اور اقوام متحدہ کے بچوں کے فنڈ (یونیس) کے نمائندوں سے ملاقات کی۔ملاقات میں بی آئی ایس پی مستحقین کی فلاح و بہود اور موثر خدمات کی فراہمی کیلئے باہمی تعاون اور شراکت داری کو مضبوط کرنے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔اجلاس کے دوران کم لاگت پر مبنی ٹیکنالوجی کے استعمال، شفافیت میں اضافہ اور مستحق خواتین اور ان کے خاندانوں کے لیے ہنر مندی کے مشترکہ مواقع تلاش کرنے پر بھی بات ہوئی۔
اس کے ساتھ ساتھ رپورٹنگ، مانیٹرنگ، فیڈ بیک سسٹم اور آگاہی مہم کو مضبوط بنانے پر زور دیا گیا تاکہ پروگرام کی کارکردگی بہتر ہو اور مستفید افراد تک سہولیات موثر انداز میں پہنچ سکیں۔چیئرپرسن بی آئی ایس پی سینیٹر روبینہ خالد نے کہا کہ صحت اور تعلیم کے شعبوں میں مربوط اور مشترکہ کوششیں نہایت اہم ہیں۔ اس سے معاشی طور پر کمزور خاندانوں پر زیادہ مثبت اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ترقیاتی اداروں کے ساتھ مضبوط شراکت داری مستحق گھرانوں تک خدمات کی فراہمی کو مزید بہتر بناتی ہے۔
اجلاس میں پاکستان میں ڈبلیو ایچ او کے سربراہ ڈاکٹر لوو ڈیپینگ، یونیسیف کی نمائندہ پارنیل آئرن سائیڈ، ورلڈ فوڈ پروگرام پاکستان کی ڈپٹی کنٹری ڈائریکٹر لنڈیتا بارے اور بی آئی ایس پی کے سینئر افسران شریک نے شرکت کی۔ ترقیاتی شراکت داروں کے نمائندوں نے بی آئی ایس پی کے ساتھ مکمل تعاون جاری رکھنے کا یقین دلایا۔ انہوں نے اس بات پر بھی اتفاق کیا کہ جلد عملی تجاویز پیش کی جائیں گی تاکہ تعاون کو مزید وسعت دی جا سکے اور مستفید افراد کو زیادہ بہتر سہولیات فراہم کی جا سکیں۔