بروقت اور موثر انصاف کی فراہمی آئینی تقاضا اور عدلیہ کی بنیادی ذمہ داری ہے، چیف جسٹس یحییٰ آفریدی

بروقت اور موثر انصاف کی فراہمی آئینی تقاضا اور عدلیہ کی بنیادی ذمہ داری ہے، چیف جسٹس یحییٰ آفریدی

اسلام آباد۔31مارچ (اے پی پی):چیف جسٹس سپریم کورٹ جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا ہے کہ بروقت اور موثر انصاف کی فراہمی آئینی تقاضا اور عدلیہ کی بنیادی ذمہ داری ہے۔سپریم کورٹ کے شعبہ تعلقات عامہ کے جاری اعلامیہ کے مطابق ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کو عدالتی اصلاحات کے تحت ریفارم ایکشن پلان (آر اے پی) پر پیش رفت کے جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔اجلاس میں وفاقی محتسب نوید کامران بلوچ سمیت اعلیٰ حکام نے شرکت کی جہاں عدالتی نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے، مقدمات کے بروقت فیصلے اور عوامی سہولتوں میں بہتری سے متعلق اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ گزشتہ تین ماہ کے دوران 3 ہزار 600 نئے مقدمات دائر ہوئے جبکہ 5 ہزار 383 مقدمات نمٹائے گئے جس سے زیر التواء کیسز کی تعداد کم ہو کر 34 ہزار 83 رہ گئی۔ چیف جسٹس نے اس پیش رفت کو سراہتے ہوئے اسے موثر کیس مینجمنٹ اور ادارہ جاتی کاوشوں کا نتیجہ قرار دیا۔مزید برآں سزائے موت کے مقدمات اور جیل پٹیشنز کا بھی جائزہ لیا گیا اور فیصلہ کیا گیا کہ زیر التواء سزائے موت اپیلیں آئندہ 30 دن میں سماعت کے لیے مقرر کی جائیں گی جبکہ پرانے مقدمات کو ترجیحی بنیادوں پر نمٹایا جائے گا۔چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ شفاف، جدید اور عوام دوست نظامِ انصاف کے قیام کے لیے اصلاحات کا عمل جاری رکھا جائے گا۔