اسلام آباد۔2اپریل (اے پی پی):وفاقی وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کی دنیا معترف ہے،غربت کے خاتمے کیلئے کام کرنے والے تمام ادارے ہم آہنگی سے آگے بڑھ رہے ہیں،ان پروگراموں میں رجسٹرڈ تمام لوگوں کے اعداد وشمار خفیہ رکھے جاتے ہیں، انہیں عام عوام کو مہیا نہیں کیا جاتا۔جمعرات کو قومی اسمبلی میں وقفہ سوالات کے دوران محمد الیاس چوہدری کے سوال کے جواب میں طارق فضل چوہدری نے بتایا کہ وزارت سے موصول ہونے والے اعداد وشمار درست ہیں، بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کی دنیا معترف ہے،آئی ایم ایف بھی اس کو سراہتا ہے، ایک کروڑ لوگوں کی ہنرمند پروگرام سے کفالت پروگرام میں ہر تین سال بعد ری سرٹیفیکیشن کی جاتی ہے، 40 لاکھ لوگ اس سے نکلے ہیں اور اتنے مزید ایڈ ہوئے ہیں، اس سروے میں سوالات پوچھے جاتے ہیں، وہاں 32 نمبر رکھے جاتے ہیں،خصوصی افراد کے لئے اس میں پانج نمبر زیادہ جبکہ ٹرانس جینڈر میں سو فیصد رجسٹریشن ہے۔
انہوں نے بتایا کہ بی آئی ایس پی کے تحت تین کروڑ 80 لاکھ افراد رجسٹرڈ ہیں، پاکستان پاورٹی ایلی وییشن فنڈ،بیت المال اور بی آئی ایس پی غربت کے خاتمے کے لئے کام کرتی ہے،پاکستان پاورٹی ایلیویشن فنڈ سے 5 ارب روپے کے بلاسود قرضے دیئے جارہے ہیں، رمضان میں 38 ارب روپے کا پیکیج رمضان میں دیا گیا، اس میں بی آئی ایس پی کے رجسٹرڈ لوگ شامل نہیں تھے۔انہوں نے بتایا کہ غربت کے خاتمے کے تمام ادارہ ایک دوسرے سے اپنا ڈیٹا شبیر کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ بی آئی ایس پی کے رجسٹرڈ خاندانوں کو تین سال بعد پرکھا جاتا ہے،اس کے لئے ایک عالمی معیار ہے۔ڈاکٹر نفیسہ شاہ کے سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ 716 ارب روپے سالانہ اس پروگرام کو دیا جاتا ہے، اس میں مزید اضافہ کے لئے کوشاں ہیں۔
نزہت صادق کے سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ کوئی بھی شکایت ہو فوری نمٹائی جاتی ہے، اس پروگرام کو فنڈز کی فراہمی میں کوئی رکاوٹ نہیں آتی۔شہر یار خان آفریدی کے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ مستفید ہونے والوں کا ڈیٹا سائنٹیفک طریقے سے لیاجاتا ہے، اس سے کوئی ادارہ محروم نہیں، ہر حکومت نے اس پروگرام کو چلایا ہے، اس کو وقت کے ساتھ بہتر کیا گیا ہے۔