بھارت کی سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی عالمی جرم ہے، رانا تجمل حسین

بھارت کی سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی عالمی جرم ہے، رانا تجمل حسین

لاہور۔2اپریل (اے پی پی):ڈائریکٹر جنرل واٹر مینجمنٹ پنجاب رانا تجمل حسین نے کہا ہے کہ بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے (آئی ڈبلیو ٹی)کی خلاف ورزی عالمی جرم ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے” اے پی پی”سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ سندھ طاس معاہدہ (انڈس واٹر ٹریٹی )پاکستان اور بھارت کے درمیان پانی کی تقسیم سے متعلق ایک معاہدہ ہے جس پر19 ستمبر1960 کو کراچی میں دستخط کیے گئے،اس معاہدے پر بھارت کے اس وقت کے وزیر اعظم جواہر لعل نہرو اور پاکستان کے صدر ایوب خان نے دستخط کئے۔اس معاہدے کے تحت چھ دریائوں کو مغربی اور مشرقی دریائوں میں تقسیم کیا گیا،مغربی دریا (سندھ، جہلم، چناب)جو زیادہ تر پاکستان کی طرف بہتے ہیں، پاکستان کےلئے مختص کئے گئے جبکہ مشرقی دریا (راوی، بیاس،ستلج)جو زیادہ تر بھارت کی طرف بہتے ہیں،بھارت کےلئے مختص کئے گئے۔ڈی جی واٹر مینجمنٹ پنجاب نے پاکستان میں بہنے والے دریائوں کی اہمیت کے حوالے سے کہا کہ ملک میں دستیاب پانی کا90 فیصد سے زیادہ حصہ زراعت میں استعمال ہوتا ہے تاکہ بڑھتی آبادی کی خوراک کی ضروریات پوری کی جا سکیں،80 فیصد سے زائد زیرِ آبپاشی زرعی زمین مغربی دریائوں (سندھ، جہلم، چناب) پر منحصر ہے،یہ دریا پانی کی مسلسل اور قابلِ اعتماد فراہمی کو یقینی بناتے ہیں جو خوراک کی پیداوار کے لیے نہایت اہم ہے ۔

بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کے پاکستانی زراعت پر اثرات کی تفصیلات بتاتے ہوئے ڈی جی واٹر مینجمنٹ نے کہا کہ سندھ طاس کے آبی نظام کو اصل میں67 فیصد کراپنگ انٹینسٹی کے لیے ڈیزائن کیا گیا تھا جبکہ اس وقت یہ شرح تقریبا 160 فیصد ہے،اس اضافے میں زیرِ زمین پانی کا بڑا کردار رہا ہے، اس وقت تقریبا50 فیصد زرعی پانی کی ضروریات زیرِ زمین پانی سے پوری کی جاتی ہیں۔رانا تجمل حسین نے کہا کہ گزشتہ دہائی کے دوران آبپاشی کےلئے دستیاب سطحی پانی میں نمایاں کمی آئی،اوسط حقیقی سطحی پانی کی دستیابی میں10 سے 25 فیصد کمی واقع ہوئی ہےجو کہ پانی کی تقسیم کے معاہدے کے وقت دستیاب114.35 ملین ایکڑ فٹ (MAF) کے مقابلے میں اوسطا95 ملین ایکڑ فٹ رہ گئی ہے،اس صورتحال میں پاکستان پہلے ہی پانی کی قلت کا سامنا کر رہا ہےلہذا سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی سے یہ بحران مزید شدت اختیار کر سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کی جانب سے معاہدے کی ممکنہ معطلی کے نتیجے میں سندھ طاس نظام میں پانی کے بہائو میں نمایاں کمی ہو سکتی ہے،تاہم زیادہ اثرات کا امکان خاص طور پر دریائے چناب پر ہے کیونکہ بھارت نے اس دریا پر متعدد ڈھانچے تعمیر کئے ہیں جن سے پاکستان،خصوصا پنجاب کی جانب پانی کے بہائو میں مداخلت کی جا سکتی ہے۔

دریائے چناب کا نظام تقریبا ایک کروڑ ایکڑ سے زائد زمین کو پانی فراہم کرتا ہےجس سے بالخصوص گوجرانوالہ، حافظ آباد، شیخوپورہ، ننکانہ صاحب، فیصل آباد، ٹوبہ ٹیک سنگھ، چنیوٹ، جھنگ، قصور، اوکاڑہ، پاکپتن اور ساہیوال کے اضلاع مستفید ہوتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ یہ پانی بڑے نہری نظاموں کے ذریعے فراہم کیا جاتا ہےجن میں اپر چناب کینال،لوئر چناب کینال،سنٹرل باری دوآب کینال،گوگیرا برانچ کینال،جھنگ برانچ کینال،لوئر باری دوآب کینال چناب کے نظام شامل ہیںجن سے کل پانی کا اخراج تقریبا27 ملین ایکڑ فٹ ہے،اس پانی میں سے 18 ملین ایکڑ فٹ خریف کے موسم میں جبکہ9 ملین ایکڑ فٹ ربیع کے موسم میں استعمال ہوتا ہے۔انہوں نے کہا کہ بھارت کی جانب سے معاہدے کی معطلی کے نتیجے میں دریائے چناب سے پاکستان آنے والے پانی میں نمایاں کمی واقع ہوئی ،رپورٹس کے مطابق پانی کی فراہمی میں 90 فیصد تک کمی دیکھنے میں آئی جس سے پنجاب کے زرعی علاقوں میں آبپاشی کا نظام شدید متاثر ہوا ۔رانا تجمل حسین نے کہا کہ اندیشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ خریف سیزن میں چاول اور کپاس کی پیداوار میں20 سے30 فیصد تک کمی ہو سکتی ہے بالخصوص اس صورت میں جب فصل کی نشوونما کے اہم مراحل پر آبپاشی دستیاب نہ ہو،پانی زیادہ استعمال کرنے والی فصلیں جیسے چاول اور گنا اس صورتحال سے سب سے زیادہ متاثر ہو سکتی ہیں جس کے نتیجے میں پیداوار میں نمایاں کمی کا خدشہ ہے۔

بھارت کی جانب سے پاکستانی دریائوں پر ناجائز طور پر ڈیموں کی تعمیر کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ یہ تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ بھارت نے دریائے چناب پر متعدد پن بجلی منصوبے تعمیر کئے ہیں جن کا مقصد مبینہ طور پر پانی کے بہائو کو روکنا ہے،ان ڈیمز میں بعض حالات میں20 سے25 دن تک پانی روکنے کی صلاحیت بھی موجود ہے جبکہ بھارت کے ڈیموں کی مجموعی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت تقریبا1.2 ملین ایکڑ فٹ ہے،چناب پر بھارت نے تین بڑے منصوبے بنائے ہیں جن میں ایک بگلیہار ڈیم ، سلال ڈیم اور پاکال ہائیڈرو الیکٹرک منصوبہ شامل ہے۔انہوں نے کہا کہ مئی2025 کے پہلے ہفتے میں واپڈا نے مرالہ ہیڈ ورکس پر پانی کے بہائو میں نمایاں کمی کی اطلاع دی جہاں پانی کا بہائو تقریبا 35,000 کیوسک سے کم ہو کر3,100 کیوسک رہ گیا،اسی طرح انڈس ریور سسٹم اتھارٹی کی مشاورتی کمیٹی نے بھی مرالہ کے مقام پر دریائے چناب کے پانی میں اچانک کمی پر تشویش ظاہر کی،اس صورتحال کے باعث ابتدائی خریف موسم میں پاکستان کو تقریبا21 فیصد پانی کی کمی کا سامنا ہو سکتا ہے۔ان کا کہنا تھاکہ پنجاب کی زراعت بڑی حد تک دریائے چناب کے پانی پر منحصر ہےجس کا حصہ تقریبا80 فیصد ہے،اس لیے اگر پانی کے بہائو میں کوئی خلل پیدا ہوتا ہے تو اس سے نہری زرعی نظام اور مجموعی زرعی پیداوار پر انتہائی منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ ڈی جی واٹر مینجمنٹ نے کہا کہ معاہدے میں تنازعات کے حل کےلئے ایک مفصل نظام موجود ہے جس میں دونوں ممالک کے ارکان پر مشتمل انڈس واٹر کمیشن، ورلڈ بینک کی جانب سے مقرر غیر جانبدار ماہرین جبکہ ثالثی عدالت (سنگین تنازعات کی صورت میں ثالثی عدالت )شامل ہیں،عالمی برادری کو بھارت کو سندھ طاس معاہدے کا پابند بنانا چاہیے۔