اسلام آباد۔31مارچ (اے پی پی):سینئر قانون دان ایڈووکیٹ سپریم کورٹ حافظ احسان احمد کھوکھر نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے حالیہ ازدواجی اثاثوں سے متعلق فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس حساس اور اہم معاملے میں جامع اور مؤثر اصلاحات کے لیے پارلیمنٹ، ماہرین قانون اور اسلامی سکالرز کی مشاورت ناگزیر ہے۔میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آئینِ پاکستان 1973 کے تحت قانون سازی پارلیمنٹ کا اختیار ہے، اس لیے ازدواجی اثاثوں کی تقسیم جیسے پیچیدہ قانونی و سماجی معاملے پر کوئی بھی پائیدار حل صرف باقاعدہ قانون سازی کے ذریعے ہی ممکن ہے، نہ کہ عدالتی ہدایات کے ذریعے۔حافظ احسان کھوکھر کا کہنا تھا کہ خاندانی معاملات پہلے ہی ویسٹ پاکستان فیملی کورٹس ایکٹ 1964 اور مسلم فیملی لاز آرڈیننس 1961 کے تحت ریگولیٹ ہوتے ہیں، جہاں فیملی کورٹس کو مکمل دائرہ اختیار حاصل ہے۔
ان کے مطابق ہائی کورٹ کی جانب سے پالیسی نوعیت کی ہدایات دینا اور قانون سازی کی سمت متعین کرنا اختیارات کی تقسیم کے اصول سے متصادم ہو سکتا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ اسلامی قانون کے تحت میاں بیوی کی جائیداد الگ تصور کی جاتی ہے اور بیوی کو مہر، تحائف اور وراثت میں مقررہ حصہ حاصل ہوتا ہے، تاہم شادی کو معاشی شراکت داری قرار دے کر خودکار طور پر 50 فیصد حصہ دینا شریعت کے اصولوں سے مطابقت نہیں رکھتا۔ اس حوالے سے وفاقی شرعی عدالت کو اسلامی احکامات کی تشریح کا آئینی اختیار حاصل ہے۔انہوں نے کہا کہ عدالت کے ایسے ریمارکس جو درخواست میں مانگے ہی نہ گئے ہوں، وہ قانونی طور پر لازمی حیثیت نہیں رکھتے اور انہیں محض آبزرویشنز سمجھا جانا چاہیے۔
انہوں نے زور دیا کہ ازدواجی اثاثوں کے حوالے سے کسی بھی قانون سازی میں واضح تعریف، اثاثوں کی درجہ بندی، فریقین کے کردار اور شواہد کے تعین جیسے پہلوؤں کو شامل کیا جانا ضروری ہے۔حافظ احسان احمد کھوکھر نے کہا کہ خواتین کے مالی حقوق کا تحفظ انتہائی اہم ہے، تاہم یہ مقصد آئینی تقاضوں، شریعت کی رہنمائی اور وسیع تر مشاورت کے ذریعے ہی حاصل کیا جا سکتا ہے، تاکہ ایک متوازن، قابلِ عمل اور دیرپا قانونی فریم ورک تشکیل دیا جا سکے۔