عورت فاؤنڈیشن کا جسٹس محسن اختر کیانی کے حالیہ فیصلے پر گہرے اطمینان اور خوشی کا اظہار

عورت فاؤنڈیشن کا جسٹس محسن اختر کیانی کے حالیہ فیصلے پر گہرے اطمینان اور خوشی کا اظہار

اسلام آباد۔28مارچ (اے پی پی):عورت فاؤنڈیشن نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے معزز جج جسٹس محسن اختر کیانی کے حالیہ فیصلے پر گہرے اطمینان اور خوشی کا اظہار کیا ہے۔ اس فیصلے میں قرار دیا گیا ہے کہ اگر شادی ختم ہو جائے تو شادی کے بعد شوہر کی جانب سے حاصل کی گئی ازدواجی جائیداد، بشمول گھریلو اشیاء میں بیوی کو بھی حصہ حاصل ہوگا۔ عورت فاؤنڈیشن کی ایگزیکٹو کونسل نے اس فیصلے کو پاکستان میں عائلی قوانین کے حوالے سے عدالتی تاریخ میں ایک اہم سنگِ میل قرار دیا جنہیں ماضی میں زیادہ تر نظرانداز کیا جاتا رہا ہے۔

یہ فیصلہ شادی کے دوران خواتین کے مالی حقوق کو یقینی بنانے، ان کے معاشی استحکام کو فروغ دینے اور ازدواجی تعلقات میں تنازعات کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوگا۔ عورت فاؤنڈیشن نے مزید بتایا کہ امارہ وقاص بنام محمد وقاص راشد و دیگر (درخواست نمبر 365 برائے 2023) میں جسٹس محسن اختر کیانی نے ازدواجی جائیداد کی تقسیم اور طلاق کے بعد نان و نفقہ کے تمام پہلوؤں پر تفصیل سے روشنی ڈالی ہے اور خواتین کے طلاق کے بعد کے حقوق کو تسلیم کیا ہے۔ فاؤنڈیشن کے مطابق فیصلے کے پیراگراف 34 میں یہ سفارش بھی کی گئی ہے کہ نکاح نامہ میں ایک علیحدہ کالم شامل کیا جائے جس میں واضح کیا جائے کہ شادی کے دوران شوہر کی ملکیت یا خریدی گئی جائیداد کو برابر تقسیم کیا جائے گا۔

فیصلے میں مزید واضح طور پر کہا گیا ہے کہ ہر لڑکی کو اسکول، کالج اور یونیورسٹی کی سطح پر اپنے ازدواجی حقوق کے بارے میں تعلیم دی جانی چاہیے اور وہ نکاح نامہ کے کالم نمبر 18 میں ان حقوق کا حوالہ دے کر انہیں نافذ کروا سکتی ہے جیسا کہ درخواست نمبر 365 برائے 2023 میں کیا گیا۔ ایسے شرائط آئینی تقاضوں اور سیڈاو (CEDAW) کے تحت قانونی طور پر قابلِ نفاذ ہیں جس کی پاکستان توثیق کر چکا ہے۔ جسٹس محسن اختر کیانی کا یہ فیصلہ ہمہ جہت ہے اور پاکستان میں خواتین کی معاشی خودمختاری اور صنفی برابری کی جانب ایک اہم پیش رفت کی نمائندگی کرتا ہے۔