اسلام آباد۔2 اپریل (اے پی پی):وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے آٹزم کے شکار افراد کو خصوصی توجہ کا مستحق قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ خصوصی بچوں کی مناسب نگہداشت اور تعلیمی اور تربیتی انتظام سے ان کو معاشرے کا فعال حصہ بنانا حکومت کے اولین فرائض میں شامل ہے، جدید تربیتی سہولیات سے آراستہ سینٹر آف ایکسیلنس فار آٹزم ایک سال کی قلیل مدت میں مکمل ہو جائے گا، نجی ادارے، سول سوسائٹی بھی اس کار خیر میں شریک ہو۔ آٹزم سے آگاہی کے عالمی دن جو 2 اپریل کو منایا جاتا ہے ۔ اس موقع پر اپنے پیغام میں وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان آج اقوام عالم کے ساتھ ہم آواز ہو کر عالمی یوم آگاہی برائے آٹزم پر، اس کے متاثرین کی بھرپور انداز میں مدد کرنے کے عزم کا اعادہ کرتا ہے۔ وزیر اعظم آفس کے میڈیا ونگ کی طرف سے جاری بیان کے مطابق وزیر اعظم نے کہا کہ آٹزم کے بارے میں شعور اجاگر کرنے اور آٹزم سے متاثرہ افراد کے حقوق، تعلیم اورمعاشرتی شمولیت کے مواقع کے فروغ کے لیے یہ دن ہر سال اقوام متحدہ کے مختص کردہ تاریخ 2 اپریل کو منایا جاتا ہے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ اس سال یہ دن ’’آٹزم اور انسانیت: ہر انسان قابل قدر ہے‘‘ کے نہایت موثر اور بامعنی عنوان کے تحت منایا جا رہا ہے۔ یہ دن ہمیں یاد دہانی کراتا ہے کہ ہر انسان منفرد ہے اور معاشرے کی خوبصورتی اسی تنوع میں ہے۔آٹزم ایک نیورو ڈیولپمنٹل ڈس آرڈر ہے جس کے متاثرین سماجی رابطے میں مشکلات اوربول چال یا زبان کے مسائل سے دوچار ہوتے ہیں۔ آٹزم کے شکار افراد کو سمجھنے، قبول کرنے اور انہیں برابر کے مواقع فراہم کرنے کے لیے یہ ہماری خصوصی توجہ کے مستحق ہیں۔ وزیر اعظم نے کہا کہ خصوصی بچوں کی مناسب نگہداشت اور تعلیمی اور تربیتی انتظام سے ان کو معاشرے کا فعال حصہ بنانا حکومت کے اولین فرائض میں شامل ہے۔ حکومت پر عزم ہے کہ تمام ممکنہ وسائل بروئے کار لاتے ہوئے خصوصی بچوں کی استعداد کار کو بڑھانے کے لئے کام کیا جائے۔
اس مقصد کے حصول کے لیے ملک کے طول و عرض میں جدید سہولتوں اور جدید آلات سے آراستہ تربیتی و تعلیمی سینٹرز کا قیام وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ آٹزم سمیت کسی بھی ذہنی و جسمانی مشکلات کے متاثرین اپنے اپ کو اکیلا نہ سمجھیں۔انہوں نے کہا کہ اس تناظر میں وفاقی حکومت نے جدید تربیتی سہولیات سے آراستہ سینٹر آف ایکسیلنس فور آٹزم کے قیام کا سنگ بنیاد دسمبر 2025ء میں رکھا ہے جو انشاء اللہ ایک سال کی قلیل مدت میں مکمل ہو جائے گا۔ علاوہ ازیں صوبائی حکومتیں بھی آٹزم کی جلد تشخیص،متاثرین کی بہتر نگہداشت، تعلیم و تربیت اور ہنر مندی کے لئے اقدامات اٹھا رہیں ہیں۔ خصوصی استعداد کے حامل بچوں کی دادرسی اور ان کی ذہنی و جسمانی اور تعلیمی نشوونما ہم سب کے اجتماعی فرائض میں شامل ہے۔
وزیر اعظم نے زور دیا کہ حکومت کےعلاوہ نجی ادارے، سول سوسائٹی کی اس کار خیر میں شرکت آٹزم کے شکار افراد کی سماجی شمولیت یقینی بنانے میں ضروری ہے۔ سازگار سماجی ماحول کی فراہمی میں اپنا حصہ ڈالنا اللہ کے حضور باعث خوشنودی ہے اور دین اور دنیا دونوں میں سرخرو ہونے کا باعث بھی ہے۔ وزیر اعظم نے اس موقع پر خصوصی استعداد کے حامل بچوں کے والدین، اساتذہ اور خدمت گزاروں کو بھی خصوصی خراج عقیدت پیش کیا جو بھرپور ہمدردی کے ساتھ انسانیت کی پرخلوص خدمت میں مشغول ہیں۔