اسلامی جمہوریہ پاکستان کا دستور 10 اپریل 1973 کو منظور کیا گیاجو ہمارے ریاستی ڈھانچے کا بنیادی قانونی اور سیاسی فریم ورک ہے،صدرِ مملکت

اسلامی جمہوریہ پاکستان کا دستور 10 اپریل 1973 کو منظور کیا گیاجو ہمارے ریاستی ڈھانچے کا بنیادی قانونی اور سیاسی فریم ورک ہے،صدرِ مملکت

اسلام آباد۔10 اپریل (اے پی پی):صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کا دستور 10 اپریل 1973 کو منظور کیا گیاجو ہمارے ریاستی ڈھانچے کا بنیادی قانونی اور سیاسی فریم ورک ہے۔دستور نے پہلی بار ایک براہِ راست منتخب ہونے والی پارلیمنٹ کے ذریعے، بالغ رائے دہی کی بنیاد پر، ملک کو ایک متفقہ آئینی نظام فراہم کیا۔ ایک چوتھائی صدی سے زائد عرصے کی غیر یقینی صورتحال اور سابقہ ناکام کوششوں کے بعد یہ ممکن ہوا۔اس دستور کی تشکیل کا عمل نہ مختصر تھا اور نہ ہی آسان۔ ایک سال سے زائد عرصے تک مختلف سیاسی قوتوں کے درمیان مسلسل مذاکرات، تحمل اور اتفاقِ رائے سے وفاقی، پارلیمانی اور جمہوری آئین کی صورت میں نکلا، جس کی اس وقت پارلیمنٹ میں موجود تمام سیاسی جماعتوں نے توثیق کی۔ یہی اتفاقِ رائے اس کی سب سے بڑی طاقتوں میں سے ایک ہے ۔

ایوان صدر کے پریس ونگ سے جاری بیان کے مطابق صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے عالمی یوم دستور کے موقع پر اپنے بیان میں کہا کہ گزشتہ پانچ دہائیوں کے دوران پاکستان کو بارہا فوجی مداخلت، آمریت کے ادوار، بیرونی مدد سے ہونے والی دہشت گردی، قدرتی آفات، معاشی دباؤ اور قومی رہنماؤں کی شہادت جیسے چیلنجز کا سامنا رہا، جن میں عدالتی فیصلوں کے نتیجے میں ہونے والے واقعات بھی شامل ہیں۔ ان تمام حالات کے باوجود آئین نے ریاستی تسلسل کو برقرار رکھا اور اداروں کی بحالی کے لیے بنیاد فراہم کی۔

انہوں نے کہا کہ یہ دن شہید ذوالفقار علی بھٹو کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا بھی ہے، جو 1973 کے دستور کے معمارِ اعظم تھے۔ ان کی قیادت نے ایک نازک مرحلے پر مختلف سیاسی قوتوں کو متحد کر کے اتفاقِ رائے پیدا کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم ان جمہوری سیاسی جماعتوں کے کردار کو بھی تسلیم کرتے ہیں، جنہوں نے مختلف ادوار میں آئین کے دفاع میں اپنا حصہ ڈالا۔انہوں نے کہا کہ ہم شہید محترمہ بینظیر بھٹو کو بھی یاد کرتے ہیں، جنہوں نے مارشل لا کے نفاذ کے بعد مشکل حالات میں جمہوری جدوجہد کو آگے بڑھایا۔ ان کی کاوشوں اور دیگر سیاسی رہنماؤں کی جدوجہد کے نتیجے میں 2006 میں میثاقِ جمہوریت سامنے آیا اور بالآخر جمہوری نظام کی بحالی ممکن ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ ان کی شہادت کے بعد میں نے ایک علامتی سربراہِ مملکت کے طور پر خدمات انجام دینے کا انتخاب کیا اور وہ اختیارات پارلیمنٹ کو واپس کیے جو سابقہ آمروں کے ادوار میں سلب کر لیے گئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ شہریوں کے لیے دستور کوئی مجرد دستاویز نہیں بلکہ ایک زندہ حقیقت ہے۔ یہ روزمرہ زندگی میں اداروں کے کام کرنے کے طریقہ کار کو متعین کرتا ہے۔

یہ طے کرتا ہے کہ عدالت میں مقدمہ کیسے سنا جائے گا، سرکاری ہسپتال کیسے چلایا جائے گا، ایک طالب علم کے ساتھ کلاس روم میں کیسا سلوک ہوگا اور ایک شہری کس طرح ضلعی دفتر سے رجوع کرے گا۔ اسی طرح بڑے معاملات میں بھی یہی رہنمائی فراہم کرتا ہےانہوں نے کہا کہ ، جیسے کہ ایک وفاقی اکائی دوسرے کے ساتھ یا وفاقی حکومت کے ساتھ اپنے تنازعات کیسے حل کرے۔

اس کا مستقل اطلاق اس بات کا تعین کرتا ہے کہ آیا خدمات منصفانہ طور پر فراہم ہو رہی ہیں، حقوق واقعی محفوظ ہیں یا نہیں اور آیا عوامی اختیار جوابدہ ہے یا نہیں۔انہوں نے کہا کہ جب ہم دستور کے معماروں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں، تو ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ یہ مقدس دستاویز عوام کی منتخب پارلیمنٹ کی تخلیق ہے اور عوام ہی دراصل اپنے مقدر کے مالک ہیں۔صدر مملکت نے کہا کہ یہ دن دستور کے دیرپا کردار پر غور کرنے کا بھی ہے۔ اس کی اہمیت کا انحصار اس کے مخلصانہ نفاذ پر ہے جو اداروں اور روزمرہ حکمرانی میں جھلکنا چاہیے ۔