اسلام آباد۔11اپریل (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و اصلاحات و خصوصی اقدامات احسن اقبال نے کہا ہے کہ اسلام آباد مذاکرات خطے میں امن و استحکام کے فروغ کے لیے ایک اہم سفارتی پیش رفت ہیں، جنہوں نے امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی میں کمی لا کر ممکنہ بڑے بحران کو ٹالنے میں مؤثر کردار ادا کیا۔ ہفتہ کو سماجی رابطے کی ویب سائیٹ ایکس پر اپنی پوسٹ میں انہوں نے کہا کہ بعض بھارتی میڈیا حلقوں کا اس مثبت پیش رفت پر منفی ردعمل افسوسناک ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایسے نازک حالات میں ذمہ دارانہ طرزِ عمل کا تقاضا یہ تھا کہ اس کوشش کو سراہا جاتا، کیونکہ یہ صرف پاکستان نہیں بلکہ پورے خطے اور عالمی برادری کے مفاد میں تھا۔انہوں نے واضح کیا کہ اگر یہ کشیدگی بڑھتی تو اس کے اثرات نہ صرف جنوبی ایشیا بلکہ گلوبل ساؤتھ کے ممالک پر بھی مرتب ہوتے، جہاں لاکھوں افراد بے روزگاری، مہنگائی، ایندھن کی بڑھتی قیمتوں اور معاشی دباؤ کا شکار ہو سکتے تھے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ ذمہ دار ریاست کے طور پر سفارتکاری، مکالمے اور امن کو ترجیح دی ہے اور عالمی سطح پر اس کے مثبت کردار کو تسلیم کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کسی کی توثیق کا محتاج نہیں بلکہ اپنے اصولی مؤقف اور عملی اقدامات کے ذریعے دنیا میں اپنا مقام بنا رہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ بعض عناصر کی جانب سے غیر سنجیدہ بیانات اور بے بنیاد تنقید دراصل خطے میں امن کی کوششوں کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ وقت آ گیا ہے کہ علاقائی ممالک جذبات کے بجائے حقیقت پسندی اور باہمی تعاون کو فروغ دیں تاکہ پائیدار امن اور مشترکہ خوشحالی کا خواب حقیقت بن سکے۔